اسرائیلی انتخابات قریب، نیتن یاہو کی مہم میں ترکیہ اور اردوان کو بڑے مخالف کے طور پر پیش کیا جانے لگا

اسرائیل میں انتخابات قریب آنے کے ساتھ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں ترکیہ اور صدر رجب طیب اردوان کو ایک نمایاں مخالف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تل ابیب کی ایک بڑی شاہراہ پر لگائے گئے انتخابی اشتہار میں اردوان کو ایران کی قیادت، حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم اور نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کے ساتھ دکھایا گیا، جبکہ پیغام دیا گیا کہ یہ سب نیتن یاہو کی شکست چاہتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اس انتخابی مہم کے چند روز بعد اسرائیلی طیاروں نے شمالی شام میں ابو الظہور فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ترکیہ وہاں فوجی اہلکار، ڈرون اور فضائی دفاعی نظام تعینات کرنے کی تیاری کر رہا تھا، جسے اسرائیل اپنی کارروائیوں کی آزادی اور علاقائی سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل شام میں کسی ایسی مستقل ترک فوجی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا جو اس کے لیے خطرہ بنے۔ دوسری جانب ترکیہ نے اسرائیلی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے نیتن یاہو حکومت پر خطے میں توسیع پسندانہ اور عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں کا الزام عائد کیا ہے۔

امریکا کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اور ترکیہ میں سفیر ٹام بارک نے بھی اسرائیلی حملے کو غیر ضروری کشیدگی قرار دیا۔ انہوں نے یہ امکان ظاہر کیا کہ اسرائیل کی کارروائی کے سیاسی مقاصد بھی ہو سکتے ہیں اور ترکیہ کے ساتھ کشیدگی انتخابی ماحول میں نیتن یاہو کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

نیتن یاہو اور اردوان کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے، تاہم غزہ، لبنان اور ایران کی جنگوں کے دوران اس میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اردوان نیتن یاہو کو جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم ترکیہ پر حماس کی حمایت کا الزام لگاتے ہیں۔ نیتن یاہو نے امریکا کی جانب سے ترکیہ کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی بھی مخالفت کی ہے۔

اسرائیل کے اندر بھی اس معاملے پر اختلاف موجود ہے۔ بعض سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شام میں ترکیہ کی بڑھتی فوجی سرگرمیاں حقیقی سکیورٹی تشویش کا باعث ہیں، تاہم نیتن یاہو کے ناقدین سمجھتے ہیں کہ حکومت ان خطرات کو انتخابی مہم میں بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔

اپوزیشن رہنما یائر لاپیڈ نے شام میں کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کے بعد کے جارحانہ بیانات پر تنقید کی، جبکہ دیگر مخالف رہنماؤں نے اسے اشتعال انگیز اور خطرناک قرار دیا۔ سابق وزیراعظم ایہود باراک نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ انتخابات سے قبل مسلسل سکیورٹی کشیدگی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

یوں ترکیہ اب اسرائیلی انتخابی سیاست اور علاقائی سکیورٹی بحث دونوں میں ایک اہم موضوع بن چکا ہے، جبکہ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ شام میں اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی حقیقی فوجی خدشات کا نتیجہ ہے یا اسے انتخابی سیاست میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں