بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 29 اگست سے یکم ستمبر تک ازبکستان اور کرغزستان کا چار روزہ دورہ کریں گے۔ دورے کے پہلے مرحلے میں وہ تاشقند پہنچیں گے، جہاں صدر شوکت مرزائیوف سے ملاقات اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔
تاشقند میں ہونے والی ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، تعلیم، ڈیجیٹل روابط اور اہم معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت متوقع ہے۔ دونوں ممالک باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے ساتھ نئی مشترکہ اقتصادی سرگرمیوں کے امکانات کا بھی جائزہ لیں گے۔
تعلیم بھی دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم شعبہ ہے۔ ازبکستان میں ہزاروں بھارتی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں جبکہ بھارتی جامعات کے متعدد کیمپس بھی قائم ہیں۔ دورے کے دوران تعلیمی تعاون، تحقیق، صحت، ادویات سازی، معلوماتی ٹیکنالوجی اور خلائی شعبے میں شراکت داری بڑھانے پر بھی گفتگو ہوگی۔
ازبکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد نریندر مودی کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک جائیں گے، جہاں وہ 31 اگست سے یکم ستمبر تک شنگھائی تعاون تنظیم کے 26ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس میں علاقائی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون، تجارت، روابط اور اقتصادی تعاون سمیت مختلف امور زیرِ بحث آئیں گے۔
بشکیک میں مودی ایس سی او رہنماؤں سے خطاب بھی کریں گے اور رکن ممالک کے مختلف سربراہان کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں متوقع ہیں۔ بھارتی وزیراعظم چھٹے ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔
یہ دورہ وسطی ایشیا کے ساتھ بھارت کے سیاسی، اقتصادی، تعلیمی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ازبکستان اور کرغزستان دونوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطوں کے ذریعے نئی شراکت داریوں اور علاقائی تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا جائے گا۔