نیپال میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد مختلف متاثرہ علاقوں سے اب تک 289 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ سینکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ملک کے کئی حصوں میں صورتحال بدستور تشویشناک ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
نیپال پولیس کی تازہ اپڈیٹ کے مطابق ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں سے لاشیں نکالنے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد میں سکیورٹی اہلکار، غیر ملکی سیاح اور عام شہری شامل ہیں۔
نیپالی فوج کے مطابق آج کے دوران 350 سے زائد افراد کو متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ریسکیو کیے جانے والوں میں 50 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جن میں 30 بھارتی، آٹھ چینی، آٹھ جنوبی کوریائی، دو امریکی اور دو اطالوی شہری شامل ہیں۔
سیلاب کے باعث کئی علاقوں میں سڑکیں اور پل مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جس سے ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ مقامات تک پہنچنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ بعض علاقوں میں زمینی راستے منقطع ہونے کے باعث امدادی سرگرمیوں کے لیے متبادل ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق جیسے جیسے ریسکیو آپریشن آگے بڑھ رہا ہے، ہلاکتوں اور مالی نقصان کی نئی تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ متعدد خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں جبکہ کئی علاقوں میں گھروں، گاڑیوں اور دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
نیپالی حکام نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور فوج، پولیس اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر ریسکیو اور تلاش کے کام میں مصروف ہیں۔ لاپتہ افراد کی بڑی تعداد کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب دنیا کے مختلف ممالک نے نیپال میں ہونے والے اس سانحے پر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی ظاہر کی ہے۔