ازبکستان میں 3.9 ارب ڈالر کے 163 صنعتی اور سماجی منصوبوں کا افتتاح

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے ملک بھر میں 72 بڑے صنعتی و خدماتی منصوبوں اور 91 سماجی سہولیات کے افتتاح کی تقریب کی قیادت کی۔ ان تمام منصوبوں پر مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 50 کھرب سوم، یعنی لگ بھگ 3.9 ارب امریکی ڈالر رہی۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ازبکستان کی معیشت ڈھائی گنا سے زیادہ بڑھی ہے۔ اس عرصے میں ملک نے تقریباً 160 ارب ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی، جبکہ 76 ارب ڈالر مالیت کے 2 ہزار 163 بڑے صنعتی منصوبے مکمل کیے گئے۔ قومی روزگار پروگراموں کے تحت تقریباً 60 لاکھ مستقل ملازمتیں بھی پیدا کی گئیں۔

صرف 2026 میں 1.7 ارب ڈالر مالیت کے 56 بڑے صنعتی اور خدماتی منصوبے فعال کیے گئے، جن سے 8 ہزار 800 بہتر اجرت والی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ اسی دوران ریاستی بجٹ سے 46 کھرب سوم خرچ کرکے 385 اسکولوں، 113 کنڈرگارٹنز، 81 ہسپتالوں، 7 ہزار 500 کلومیٹر سڑکوں اور 3 ہزار 200 کلومیٹر پانی و نکاسی آب کے نظام کی تعمیر، مرمت اور بحالی کی گئی۔

نئے افتتاح شدہ منصوبوں سے 15 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہونے اور سالانہ تقریباً ایک کھرب سوم اضافی بجٹ آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یہ منصوبے بجلی، زراعت، خوراک کی تیاری، دھات سازی، گاڑی سازی، برقی انجینئرنگ، تعمیراتی مواد، کان کنی اور ٹیکسٹائل سمیت کئی اہم شعبوں پر مشتمل ہیں۔

علاقائی سطح پر بھی بڑے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔ سیر دریا میں 1 ہزار 573 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت شامل کی گئی، جبکہ قراقلپاکستان میں 200 میگاواٹ کا ونڈ پاور پلانٹ اور 100 میگاواٹ توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام شروع کیا گیا۔ نوائی میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں سے سالانہ 657 ملین کلوواٹ گھنٹے بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

سمرقند اور تاشقند کے علاقوں میں دھات سازی کے نئے منصوبے شروع کیے گئے جن کا مقصد مقامی پیداوار بڑھانا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔ اندجان، نمنگان اور جیزاخ میں ٹیکسٹائل، نٹ ویئر اور قالین سازی کے نئے یونٹس فعال کیے گئے تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔

سماجی شعبے میں 36 کنڈرگارٹنز، 43 اسکول، سات اعلیٰ تعلیمی ادارے اور تین ہسپتال افتتاحی منصوبوں میں شامل تھے۔ نیو تاشقند میں 10 ہیکٹر پر قائم نیو ازبکستان یونیورسٹی کا نیا کیمپس مکمل کیا گیا، جہاں 7 ہزار طلبہ تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ یہاں ہارورڈ یونیورسٹی کے تعاون سے ریکٹرز اسکول، آکسفورڈ یونیورسٹی کے تعاون سے انتظامی تربیتی مرکز اور یکم اکتوبر سے مصنوعی ذہانت کا ادارہ بھی شروع کیا جائے گا۔

نیو تاشقند میں پانچ منزلہ اور 30 ہزار مربع میٹر پر مشتمل نئی قومی لائبریری بھی قائم کی گئی ہے، جہاں بیک وقت 1 ہزار 500 افراد مطالعہ کر سکیں گے۔ قرشی میں 400 ارب سوم کی لاگت سے یونیورسٹی آف اکنامکس اینڈ پیڈاگوجی کا افتتاح کیا گیا، جو 3 ہزار طلبہ کو تعلیم دے گی اور 700 مقامی ملازمتیں پیدا کرے گی۔

فرغانہ میں ایک نیا طبی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے جو سالانہ 60 ہزار مریضوں کو علاج فراہم کرے گا اور 30 ہزار خواتین کی صحت کی جانچ کرے گا۔ تقریب کے اختتام پر صدر شوکت مرزائیوف نے علامتی بٹن دبا کر ملک بھر کے تمام 163 منصوبوں کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں