کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ مستقبل میں چاند پر بھی ٹریفک جام ہو سکتا ہے؟

جی ہاں! آنے والی دو دہائیوں میں چاند کی سطح اور اس کے گرد خلا، خلائی مسافروں، خلائی جہازوں اور سائنسی مشنز سے مصروف ہو سکتا ہے۔

ناسا سمیت دنیا کے خلائی ادارے چاند پر مستقل رہائش گاہیں قائم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ چاند کے مدار میں ایک خلائی اڈہ بھی بنایا جا رہا ہے، جسے گیٹ وے کا نام دیا گیا ہے۔

لیکن جوں جوں خلائی جہازوں کی آمدورفت بڑھے گی، ایک نیا مسئلہ بھی سامنے آئے گا
چاند کے گرد خلائی ٹریفک کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟

سائنس دانوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے خلائی ٹریفک کے باقاعدہ اصول تجویز کیے ہیں، بالکل ایسے جیسے زمین پر گاڑیوں اور طیاروں کے لیے ٹریفک قوانین موجود ہیں۔

محققین کے مطابق چاند کے گرد موجود خلا میں ایک طرح کی آسمانی شاہراہ بنائی جا سکتی ہے، جہاں خلائی جہاز کششِ ثقل کے اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے مخصوص راستوں پر سفر کریں گے۔

ناسا کا گیٹ وے نیئر ریکٹی لائنئر ہیلو آربٹ یعنی این آر ایچ او میں گردش کرے گا۔ یہ ایک انتہائی وسیع اور تقریباً مستحکم مدار ہے، جسے برقرار رکھنے کے لیے نسبتاً کم ایندھن درکار ہوتا ہے اور زمین سے مسلسل رابطہ بھی ممکن رہتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس مدار میں زمین اور چاند دونوں کی کششِ ثقل اثر انداز ہوتی ہے۔ نتیجتاً خلائی جہاز چاند سے بہت مختلف فاصلے پر موجود ہو سکتے ہیں۔

اگر ایک ہی وقت میں کئی خلائی جہاز وہاں موجود ہوں تو معمولی نیویگیشن کی غلطی بھی خطرناک تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔
اسی لیے کچھ خلائی جہازوں کو اپنی باری کے انتظار میں خلا میں لوئٹر کرنا پڑ سکتا ہے، یعنی محفوظ فاصلے پر رہتے ہوئے مخصوص مدار میں چکر لگانا۔

بالکل ایسے جیسے ہوائی جہاز اترنے سے پہلے ایئرپورٹ کے قریب چکر لگاتے ہیں۔

فرق صرف یہ ہے کہ چاند کے گرد انتظار چند منٹ نہیں بلکہ بعض اوقات کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

محققین نے کمپیوٹر سیمولیشنز کے ذریعے جانچا کہ خلائی جہازوں کو ایک دوسرے سے محفوظ فاصلے پر کیسے رکھا جا سکتا ہے۔ ان میں نیویگیشن کی ممکنہ غلطیوں اور تھرسٹرز کے مسائل کو بھی شامل کیا گیا۔
اور نتائج سے معلوم ہوا کہ معمولی مداری تبدیلیوں اور اضافی مشقوں کے ذریعے خلائی جہازوں کو ان کی مقررہ پوزیشنوں کے قریب رکھا جا سکتا ہے۔

اس طرح ان کی نقل و حرکت زیادہ قابلِ پیش گوئی ہوگی اور چاند کے گرد بڑھتی ہوئی خلائی ٹریفک کو محفوظ انداز میں منظم کرنا آسان ہو جائے گا۔

یعنی مستقبل میں چاند صرف انسانی تحقیق کا مرکز نہیں ہوگا
وہاں بھی ٹریفک کے اصول ہوں گے، راستے ہوں گے، اور شاید خلائی ٹریفک کنٹرول بھی

اپنا تبصرہ لکھیں