پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ملک میں پینے کے پانی کے گرتے ہوئے معیار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آلودہ یا غیر رجسٹرڈ پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی، بھاری جرمانوں اور فوجداری مقدمات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان کونسل فار ریسرچ اِن واٹر ریسورسز کی تازہ مانیٹرنگ رپورٹ میں 29 بوتل بند اور منرل واٹر برانڈز کو انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان برانڈز میں مائیکرو بائیولوجیکل یا کیمیائی آلودگی پائی گئی۔
رپورٹ کے لیے اپریل سے جون 2026 کے دوران پاکستان کے 20 بڑے شہروں سے بوتل بند پانی کے 230 نمونے حاصل کیے گئے۔
پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے مقررہ معیار سے موازنہ کرنے پر 29 برانڈز معیار پر پورا نہیں اترے۔
تحقیقات کے مطابق نو برانڈز میں سوڈیم کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی، جبکہ چار برانڈز میں ٹوٹل ڈیزالوڈ سالڈز یعنی TDS کی سطح قابلِ اجازت حد سے تجاوز کر گئی۔ متعدد برانڈز میں بیکٹیریا کی موجودگی بھی سامنے آئی، جس کے باعث انہیں پینے کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے سوال اٹھایا کہ آلودہ پانی فروخت کرنے والے اداروں کی رجسٹریشن اور نگرانی کس کی ذمہ داری ہے اور غیر محفوظ پانی فروخت کرنے والوں کو قانون کے تحت جواب دہ کیوں نہیں بنایا جا رہا۔
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ صاف پینے کے پانی کی فراہمی کو بنیادی حق سمجھتے ہوئے سرکاری فلٹریشن پلانٹس اور میونسپل پائپ لائنوں کو بہتر بنایا جائے، جبکہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے کمرشل واٹر سپلائرز اور فلٹریشن یونٹس کی مسلسل اور شفاف نگرانی یقینی بنائیں۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق صاف پانی اور بہتر صفائی کے نظام پر توجہ دے کر پانی سے پھیلنے والی کئی قابلِ تدارک بیماریوں کو روکا اور ملک کے صحت کے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔