مغربی افریقی ملک گنی میں کچرے کا بڑا ڈھیر رہائشی مکانات پر گرنے سے 31 افراد ہلاک، 22 زخمی

مغربی افریقی ملک گنی کے دارالحکومت کوناکری میں کچرے کے ایک بڑے مرکز پر موجود کچرے کا ڈھیر قریبی گھروں پر گرنے سے کم از کم 31 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں سے چھ کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق یہ حادثہ کوناکری کے دارالسلام علاقے میں رات تقریباً دو بجے پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ رات بھر ہونے والی شدید بارش کے بعد کچرے کا بڑا حصہ اچانک منہدم ہو کر قریب واقع گھروں پر آ گرا۔

حادثے کے فوری بعد بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ حکومت کے مطابق فوج سمیت مختلف اداروں کے اہلکاروں اور بھاری مشینری کو جائے حادثہ پر تعینات کیا گیا، جہاں ملبے اور کچرے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق کچرے کے ڈھیر کا پہلا حصہ گرنے کے بعد مقامی لوگ متاثرین کی مدد کے لیے آگے بڑھے، تاہم اسی دوران ایک اور حصہ بھی کئی مرحلوں میں منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں امداد کے لیے پہنچنے والے بعض افراد بھی اس کی زد میں آ گئے۔

گنی کے وزیراعظم مامادو اوری باہ نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ ایک متاثرہ رہائشی نے رائٹرز کو بتایا کہ کچرے کی دوسری بڑی لہر نے اس کے گھر کو گرا دیا، جبکہ علاقے میں متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔

گنی کی وزیر صحت خائتے سال نے ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ متاثرین کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور حکومت متاثرہ خاندانوں کی معاونت کرے گی۔

حکام نے حادثے کے بعد کچرے کے مرکز کے قریب رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔ حکومت نے اس سے قبل بھی اس مقام کے قریب آباد افراد کو علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کی تھی، تاہم متعدد خاندان وہاں مقیم رہے۔

اسی مقام پر اس سے قبل 2017 میں بھی ایسا حادثہ پیش آیا تھا جس میں 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حالیہ حادثے کے بعد کچرے کے اس مرکز کے انتظام اور قریبی آبادیوں کی حفاظت کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

امدادی ٹیمیں بھاری مشینری کی مدد سے کچرے کے ڈھیر میں دبے ممکنہ متاثرین کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ حکام صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں