چین نے دنیا کے سب سے بڑے ہائیڈرو پاور ڈیم کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے، جو تبت کے مشرقی کنارے پر دریائے یارلونگ زانگبو کے نشیبی حصے میں تعمیر کیا جائے گا۔ اس منصوبے سے سالانہ 300 بلین کلو واٹ گھنٹے بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے، جو چین کے موجودہ سب سے بڑے تھری گورجز ڈیم سے تین گنا زیادہ ہے۔
ماحولیاتی اور سماجی اثرات پر سوالات
سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، یہ منصوبہ چین کے کاربن غیر جانبداری کے اہداف کو پورا کرنے، انجینئرنگ کی صنعت کو فروغ دینے، اور تبت میں ملازمتیں پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ تاہم، ماہرین اور پڑوسی ممالک نے اس کے ممکنہ ماحولیاتی اور سماجی اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یارلونگ زانگبو کا 50 کلومیٹر طویل حصہ، جہاں پانی 2,000 میٹر کی بلندی سے گرتا ہے، ہائیڈرو پاور کی بے پناہ صلاحیت کے لیے مشہور ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ انجینئرنگ کے غیر معمولی چیلنجز بھی پیش کرتا ہے۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے خدشات
یارلونگ زانگبو بھارت میں دریائے برہم پترا اور بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے، جہاں یہ لاکھوں افراد کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کو خدشہ ہے کہ ڈیم کی تعمیر دریا کے بہاؤ اور پانی کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے زراعت، ماحولیاتی نظام، اور مقامی آبادی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
علاقائی ماحولیاتی اثرات
چین کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ مقامی ماحولیات پر کوئی بڑا اثر نہیں ڈالے گا، لیکن ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ اس منصوبے سے کتنے افراد بے گھر ہوں گے یا ماحولیاتی نظام پر اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ اس کے برعکس، بھارت میں ماہرین کا کہنا ہے کہ برہم پترا میں پانی کی سالانہ فراہمی میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔
منصوبے کے مالی اور تکنیکی پہلو
تبت کے اس ڈیم کی تعمیر پر آنے والی لاگت، تھری گورجز ڈیم کے 34.83 بلین ڈالر کے اخراجات سے کہیں زیادہ ہوگی۔ تھری گورجز ڈیم کے تعمیراتی مرحلے میں 1.4 ملین افراد کو دوبارہ آباد کرنا پڑا تھا، جبکہ تبت کے منصوبے کے لیے ایسی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔
چین کے اس اولوالعزم منصوبے نے توانائی کی پیداوار کے میدان میں ایک نیا سنگِ میل قائم کرنے کی امیدیں پیدا کی ہیں، لیکن ماحولیاتی تحفظ اور علاقائی تعاون کے حوالے سے سنجیدہ سوالات بھی جنم دیے ہیں۔