بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور شمع عبید اسلام نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور عوامی لیگ رہنماؤں کی بھارت سے سرگرمیوں کا معاملہ دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم نئی دہلی کو واضح کرنا ہوگا کہ وہ بنگلہ دیش کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات چاہتا ہے۔
وزارت خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شمع عبید نے کہا کہ بنگلہ دیش پہلے ہی اس معاملے پر اپنے تحفظات سرکاری بیان کے ذریعے ظاہر کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک سزا یافتہ شخص بھارتی سرزمین سے ایسے بیانات دے اور بھارتی حکومت اسے روکنے کے لیے اقدامات نہ کرے تو یہ بنگلہ دیش کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
شمع عبید نے الزام عائد کیا کہ عوامی لیگ کے رہنما بھارتی سرزمین سے سازشی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں، اور کہا کہ اس معاملے پر بھارتی حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری رہنی چاہیے اور تعلقات برابری، باہمی احترام اور وقار کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات صرف موجودہ تنازع تک محدود نہیں بلکہ توانائی، پانی، سرحدی معاملات اور دیگر کئی امور پر تعاون موجود ہے، جنہیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
شمع عبید نے عوامی لیگ پر الزام عائد کیا کہ وہ بنگلہ دیش کو انتہا پسندی سے جوڑنے والے پرانے سیاسی بیانیے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں انتہا پسندی سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عوام کی حمایت سے قائم حکومت موجود ہے۔
انہوں نے عوامی لیگ کے دور حکومت میں انسانی حقوق اور جمہوریت سے متعلق الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی جانب سے جمہوریت اور انسانی حقوق کی بات کرنا قابلِ قبول نہیں۔
بیان میں شمع عبید نے کہا کہ بنگلہ دیش بھارت کے ساتھ تعمیری تعلقات چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موجود مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش برکس میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم آئندہ اجلاس میں وزیراعظم طارق رحمان کی شرکت کا فیصلہ ان کے شیڈول کے مطابق کیا جائے گا۔