بمبئی ہائیکورٹ نے معروف صحافی اور سابق ایڈیٹر ترون تیج پال کو ایک خاتون ساتھی کے ساتھ ریپ کے جرم میں 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
بمبئی ہائیکورٹ کے گوا بینچ نے جمعرات کو ایک سابق بریت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تیج پال کو سزا سنائی اور ان پر 5 ہزار 250 ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا۔
ترون تیج پال پر الزام تھا کہ انہوں نے 2013 میں میگزین “تہلکہ” کی تقریب کے دوران ایک فائیو اسٹار ہوٹل کی لفٹ میں اپنی جونیئر خاتون ساتھی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ گوا پولیس کی تفتیشی افسر سونیتا ساونت نے صحافیوں کو بتایا کہ عدالت نے انہیں 10 سال سخت قید کی سزا سنائی ہے اور انہیں خود کو حکام کے حوالے کرنے کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔
ترون تیج پال نے فیصلہ سنائے جانے سے قبل الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کو سیاسی انتقام کا نشانہ سمجھتے ہیں اور ان کے وکلا سزا میں نرمی کی درخواست کریں گے۔
فیصلے میں 2021 میں گوا کی ایک عدالت کی جانب سے دی گئی بریت کو کالعدم قرار دیا گیا جس میں ریپ، جنسی ہراسانی کے الزامات مسترد کر دیے گئے تھے۔ گوا حکومت نے اس فیصلے کو بمبئی ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس کے بعد سابق بریت کا فیصلہ ختم کر دیا گیا۔
یہ کیس 2013 میں بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد پر شدید عوامی بحث کے دوران سامنے آیا تھا، جب نئی دہلی میں 23 سالہ طالبہ کے اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد ملک گیر احتجاج ہوئے تھے۔
الزامات سامنے آنے کے بعد تیج پال نے واقعے کو “غلط فیصلہ” قرار دیا تھا اور ملازمت سے چھ ماہ کی رخصت لینے کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں انہوں نے اس مقدمے کو سیاسی انتقام قرار دیا اور کہا کہ یہ مقدمہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی جانب سے سیاسی کارروائی ہے۔