وزیراعظم پاکستان شہباز شریف تین روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ہمراہ ہیں

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف جمعرات کو تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں۔ چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر یہ دورہ کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کے وفد میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شامل ہیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار بھی وفد کا حصہ ہوں گے، جو اردن کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں۔

بیان کے مطابق وزیراعظم دورے کے دوران عمرہ ادا کریں گے اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ میں حاضری بھی دیں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ وزیراعظم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔

ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کی علاقائی و عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جو کئی دہائیوں کے باہمی اعتماد، تعاون اور بھائی چارے پر قائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ دورہ خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہو رہا ہے، تاہم اس کی اہمیت فوری بحرانوں اور مختصر مدتی معاملات سے کہیں زیادہ ہے۔ طاہر اندرابی کے مطابق دورے سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، اسٹریٹجک تعاون گہرا ہوگا، علاقائی اور عالمی امور پر رابطہ بڑھے گا اور کثیرالجہتی تعاون کو بھی تقویت ملے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس سے قبل اپریل میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے سعودی قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔

مشرق وسطیٰ میں تنازع مختلف محاذوں تک پھیلنے کے بعد سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کے تحفظ کے لیے کثیرملکی بحری دفاعی اتحاد قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

پاکستان سمیت 14 ممالک نے اس اتحاد کی حمایت کی ہے۔ جولائی میں پاکستان نے عراق میں سعودی فضائی حملوں کو حقِ دفاع کے استعمال کے طور پر حمایت دی تھی۔

اس سے قبل یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب سے منسلک جہاز رانی کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان نے خبردار کیا تھا کہ پاکستانی بحری مفادات پر حملہ ’سرخ لکیر‘ ہوگا۔ پاکستان نے کہا تھا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا تجارتی جہاز رانی کے خلاف کسی بھی کارروائی کو پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی اور بحیرہ احمر و باب المندب سے قانونی بحری تجارت کی بلا تعطل روانی کے لیے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں