برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اہلکاروں اور دفاعی کنٹریکٹرز کے موبائل فونز کا مقام معلوم کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے فون ہیک کرنا بھی ضروری نہیں تھا۔ مبینہ طور پر دو ایسے طریقے استعمال کیے گئے جو دنیا بھر میں تقریباً ہر اسمارٹ فون سے منسلک ہیں: موبائل رومنگ کا نظام اور اشتہاری کمپنیوں کے پاس موجود لوکیشن ڈیٹا۔
پہلا طریقہ ایس ایس سیون نامی عالمی ٹیلی کمیونی کیشن نظام سے متعلق ہے۔ جب کوئی شخص اپنے ملک سے باہر جاتا ہے اور اس کا فون کسی دوسرے ملک کے موبائل نیٹ ورک سے جڑتا ہے تو مختلف ٹیلی کام کمپنیاں اسی نظام کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کرتی ہیں۔
لیکن اس پرانے نظام میں موجود کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر کسی مخصوص فون کی موجودگی اور اس کا اندازاً مقام معلوم کیا جا سکتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے مشرقِ وسطیٰ کے موبائل نیٹ ورکس کو بڑی تعداد میں ایسی درخواستیں موصول ہوئیں، جن کا مقصد مخصوص رومنگ فونز کا مقام معلوم کرنا تھا۔
سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عام یا اتفاقی سرگرمی دکھائی نہیں دیتی، بلکہ مخصوص فونز کو منظم انداز میں تلاش کرنے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔
دوسرا طریقہ اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ تقریباً ہر موبائل ایپ اور اسمارٹ فون صارف کو اشتہارات دکھانے کے لیے ایک مخصوص شناختی نمبر بناتا ہے۔ مختلف ایپس صارف کے مقام، سفر، خریداری اور دلچسپیوں سے متعلق معلومات اشتہاری کمپنیوں تک پہنچاتی ہیں۔
یہی ڈیٹا تجارتی منڈی میں خریدا جا سکتا ہے۔ اگر کسی خفیہ ادارے کو ایک مخصوص فون کا اشتہاری شناختی نمبر مل جائے تو وہ دیکھ سکتا ہے کہ یہ فون کن ہوٹلوں، فوجی تنصیبات یا حساس مقامات پر بار بار جاتا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عراق کے کردستانی علاقے میں امریکی اہلکاروں اور کنٹریکٹرز کے زیرِ استعمال ہوٹلوں کی شناخت کے لیے اسی قسم کے اشتہاری ڈیٹا سے فائدہ اٹھایا گیا ہو سکتا ہے۔
جنگ کے دوران عراق، بحرین اور خلیج کے بعض دیگر علاقوں میں ایسے ہوٹلوں اور مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے ہوئے جہاں امریکی اہلکار یا ان سے وابستہ کنٹریکٹرز مقیم تھے۔
تاہم یہ ابھی ثابت نہیں ہوا کہ ہر حملے کا ہدف صرف موبائل فون ڈیٹا کی مدد سے منتخب کیا گیا تھا۔ ممکن ہے کہ اس کے ساتھ انسانی مخبروں، سوشل میڈیا پوسٹس، ہوٹلوں کے آن لائن جائزوں اور دیگر انٹیلی جنس ذرائع کو بھی استعمال کیا گیا ہو۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی کانگریس کو بتایا تھا کہ اسے دشمن عناصر کی جانب سے امریکی اہلکاروں کی نگرانی یا انہیں نشانہ بنانے کے لیے تجارتی لوکیشن ڈیٹا کے استعمال سے متعلق متعدد خطرات کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کے تحفظ کے لیے غیرمعمولی اقدامات کیے گئے، لیکن سکیورٹی ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ ابھی برقرار ہے۔