بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک سے اپوزیشن رہنماؤں نے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں، کیونکہ ان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔
سونم وانگچک 28 جون سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ وہ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سونم وانگچک نے یہ بھوک ہڑتال کاکروچ جنتا پارٹی کے دھرنے سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر شروع کی۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے ہیں، جنہوں نے امتحانی بے ضابطگیوں اور پرچے لیک ہونے کے خلاف نوجوانوں کی آواز اٹھائی ہے۔
یہ احتجاج نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے قریب جنتر منتر پر جاری ہے۔
یہ احتجاج وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف نوجوانوں کی ناراضی کا ایک نمایاں اظہار سمجھا جا رہا ہے۔ سونم وانگچک، جو ایک انجینئر اور سماجی کارکن ہیں، کمزوری کے باعث بات کرنے سے بھی قاصر دکھائی دے رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے مطابق سونم وانگچک کا وزن ساڑھے آٹھ کلو کم ہو چکا ہے اور ان کی صحت مسلسل بگڑ رہی ہے۔ ابھیجیت دپکے نے کہا کہ وہ سونم وانگچک کو بھوک ہڑتال ختم کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر وہ اپنا احتجاج جاری رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں۔
احتجاج میں شریک ایک نوجوان پیر کے روز بے ہوش ہو گیا، جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔ کئی اپوزیشن رہنماؤں نے بھی سونم وانگچک سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی زندگی اور صحت کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
اتر پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ سونم وانگچک کی زندگی پوری دنیا کے لیے قیمتی ہے، کیونکہ وہ انسانیت، ماحول اور جمہوریت سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔
بھارت میں نوجوانوں کی بڑی تعداد تعلیمی نظام، بے روزگاری اور امتحانی شفافیت سے متعلق مسائل پر ناراض ہے۔ رپورٹس کے مطابق، بھارت میں 15 سال سے زائد عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 2025 میں 3.1 فیصد تھی، مگر 15 سے 29 سال کے نوجوانوں میں یہ شرح تقریباً 10 فیصد رہی۔ شہری علاقوں میں نوجوانوں کی بے روزگاری 13.6 فیصد تک بتائی گئی ہے۔
پرچے لیک ہونے کے معاملے نے نوجوانوں میں غصہ مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ ایک بڑے میڈیکل انٹری امتحان کو منسوخ کر کے دوبارہ منعقد کرنا پڑا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اس امتحان میں 23 لاکھ امیدوار شریک ہوئے تھے۔
سونم وانگچک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جب تک وزیر تعلیم استعفیٰ نہیں دیتے اور تعلیمی نظام میں شفافیت کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔