یورپ میں شدید گرمی کی لہر، ایک ہفتے میں 10 ہزار سے زائد اضافی اموات رپورٹ

یورپ میں جون کے آخر میں آنے والی ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے دوران 10 ہزار سے زائد معمول سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اعداد و شمار یورو مومو نامی نیٹ ورک نے جاری کیے ہیں، جسے یورپی مرکز برائے انسدادِ امراض اور عالمی ادارہ صحت کی حمایت حاصل ہے۔

رپورٹ کے مطابق 22 سے 28 جون کے ہفتے میں 27 یورپی ممالک میں 10 ہزار 650 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ ان میں سے 9 ہزار سے زائد اموات 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں ہوئیں۔

یورو مومو سے وابستہ ماہر لاسے ویسٹرگارڈ نے رائٹرز کو بتایا کہ سال کے اس وقت اتنی زیادہ اضافی اموات غیر معمولی ہیں، اور اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ شدید گرمی ہی دکھائی دیتی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جون کے آخر میں آنے والی یہ گرمی کی لہر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے بغیر تقریباً ناممکن تھی۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ہیٹ ویوز کو زیادہ بار بار اور زیادہ شدید بنا رہی ہے۔

یہ گرمی کی لہر فرانس، اسپین، برطانیہ اور دیگر مغربی یورپی ممالک میں اپنے عروج پر پہنچی تھی۔ اس دوران بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، اسکول بند کیے گئے اور کئی ممالک میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔

یورو مومو کے مطابق فرانس اور بیلجیئم وہ ممالک تھے جہاں جون کے آخری ہفتے میں اضافی اموات کی شرح “بہت زیادہ” رہی۔ بیلجیئم کے پبلک ہیلتھ ادارے کے مطابق یہ 2000 کے بعد کسی بھی ہیٹ ویو کے دوران ملک میں اضافی اموات کی بلند ترین سطح تھی۔

ایک الگ سائنسی تحقیق کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں مئی اور جون کی گرمی کی لہروں کے دوران تقریباً 2 ہزار 700 افراد گرمی سے متعلق وجوہات کے باعث ہلاک ہوئے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ ان اموات میں سے 42 فیصد اس اضافی گرمی کی وجہ سے ہوئیں جو عالمی حدت نے ہیٹ ویوز میں شامل کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں