بنگلہ دیش میں حالیہ شدید بارشوں، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کم از کم 51 افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔
عالمی اور بنگلادشی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں مسلسل بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، جبکہ دارالحکومت ڈھاکا سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں زیرِ آب آ گئیں۔ بعض علاقوں میں پانی گھٹنوں تک پہنچ گیا، جس کے باعث آمد و رفت، کاروبار اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے۔
حکام کے مطابق ہزاروں افراد اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں اور کئی متاثرہ خاندان سرکاری پناہ گاہوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں کاکس بازار میں ہوئیں، جہاں بڑی تعداد میں روہنگیا پناہ گزین بھی مقیم ہیں۔ اب تک رپورٹ ہونے والی 51 ہلاکتوں میں سے 28 کاکس بازار میں ہوئیں ہیں۔
گزشتہ ہفتے اسی ضلع میں سیلابی پانی اسکول میں داخل ہونے سے کئی طلبہ اور ایک استاد بھی جان سے گئے تھے۔ بنگلہ دیشی حکام کے مطابق شدید بارشوں کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعلق انتباہ جاری کیے گئے، جبکہ زیادہ خطرے والے علاقوں سے خاندانوں کو نکالا گیا اور طلبہ کے امتحانات بھی مؤخر کیے گئے۔
سیلاب کی پیش گوئی اور انتباہی مرکز کے عہدیدار سردار ادے ریحان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک کے جنوب مشرقی حصوں میں صورتحال بہتر ہونے کا امکان ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مون سون بارشیں شمال مشرقی اور شمالی بنگلہ دیش کو بھی متاثر کر رہی ہیں، اس لیے مزید علاقوں میں پانی پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔
بنگلہ دیش ایک نشیبی ملک ہے، جہاں دریاؤں کی بڑی تعداد اور مون سون بارشوں کے باعث ہر سال سیلاب آتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بارشوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے بنگلہ دیش جیسے ممالک میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات مزید بڑھ رہے ہیں۔
حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرین کو خوراک، پینے کا پانی، طبی امداد اور عارضی رہائش فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔