رشتہ دیکھنے گئے اور اغوا ہو گئے

سکھر کے مائیکرو کالونی کے رہائشی مجیب احمد سیال اور ان کے خاندان کو شکارپور میں رشتہ دیکھنے کے بہانے بلایا گیا، لیکن یہ ملاقات ان کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گئی۔ ڈاکوؤں نے خواتین اور بچوں سمیت نو افراد کو اغوا کر لیا اور بھاری تاوان کا مطالبہ کیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کے مطابق  احمد سیال کو زنجیروں میں جکڑ کر تین ہفتے تک ایک بنکر میں قید رکھا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئےانہیں بازیاب کروایا۔

کچے کے علاقے میں جرائم اور پولیس کا ردعمل

کچے کے علاقے میں اغوا برائے تاوان کے ایسے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس کے تحت لوگوں کو دھوکہ دہی یا ‘ہنی ٹریپ’ کے ذریعے بلایا جاتا ہے۔
ڈی آئی جی سکھر فیصل عبداللہ چاچڑ کے مطابق جرائم پیشہ افراد شہریوں کو نسوانی آواز یا شادی کے جھانسے میں پھنسا کر بلا کر اغوا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سستے ٹریکٹر، موٹر سائیکل، اور جانوروں کے اشتہارات کے ذریعے بھی جھانسہ دیا جاتا ہے۔

پولیس نے گزشتہ ایک ماہ میں 43 واقعات کو ناکام بنا کر درجنوں افراد کو ڈاکوؤں کے چنگل سے بچایا۔ تاہم، عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ دریا کے قریبی علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔

کچے کا علاقہ اور ڈاکوؤں کی پناہ گاہیں

کچے کا علاقہ دریا سندھ کے دونوں کناروں کے درمیان 22 کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل ہے، جو قدرتی پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیلاب اور ناقص راستوں کی وجہ سے عام افراد کا وہاں جانا مشکل ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر جرائم پیشہ عناصر یہاں اپنی کمین گاہیں قائم کرتے ہیں۔

پولیس کی جانب سے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، لیکن عوام کی محتاطی اور تعاون کے بغیر ان مسائل کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں