بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم طارق رحمان کا پہلا غیر ملکی دورہ، چین اور ملائیشیا میں کن امورپر بات چیت ہوگی؟

بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمان منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر ملائیشیا اور چین جا رہے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، 6 روزہ دورے کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنا، بیرونِ ملک روزگار کے مواقع بڑھانا اور اہم ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔

وزیرِ اعظم طارق رحمان اتوار کو کوالالمپور روانہ ہوں گے، جہاں وہ ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم سے ملاقات کریں گے۔ ملائیشیا میں بات چیت کا مرکز بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی، لیبر مائیگریشن اور معاشی تعاون ہو گا۔

ملائیشیا بنگلہ دیشی محنت کشوں کے لیے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے، جبکہ بیرونِ ملک مقیم کارکنوں کی ترسیلات بنگلہ دیش کے لیے زرمبادلہ کا بڑا ذریعہ ہیں۔

ملائیشیا کے بعد طارق رحمان چین جائیں گے، جہاں وہ چینی وزیرِ اعظم لی چیانگ کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ 25 جون کو چینی وزیرِ اعظم لی چیانگ اور 26 جون کو صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔

بنگلہ دیشی حکام کے مطابق، چین کے دورے کے دوران 15 سے 17 دوطرفہ معاہدوں اور مفاہمتی دستاویزات پر دستخط متوقع ہیں۔ طویل عرصے سے زیرِ التوا تیستا دریا منصوبے پر بھی بات چیت ایجنڈے میں شامل ہو گی۔

طارق رحمان چین کے شہر دالیان میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس، جسے سمر ڈیووس فورم بھی کہا جاتا ہے، میں بھی شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں عالمی کاروباری اور سیاسی رہنما ترقی، جدت اور نئی ٹیکنالوجیز پر بات کریں گے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ڈھاکا چین کے ساتھ تجارتی اور ترقیاتی تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہتا ہے۔ حال ہی میں بنگلہ دیش نے چٹاگانگ میں چینی اقتصادی و صنعتی زون کے لیے 34 کروڑ ڈالر کے انفراسٹرکچر منصوبے کی منظوری دی ہے۔

حکام کے مطابق اس منصوبے سے ابتدائی مرحلے میں تقریباً 1 لاکھ ملازمتیں پیدا ہونے اور 50 کروڑ ڈالر سے زائد غیر ملکی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں