فیفا ورلڈ کپ 2026 میں مراکش کی ٹیم کے لیے کھیلنے والے 18 سالہ مڈفیلڈر ایوب بوعادی اچانک عالمی فٹبال میں توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
ایوب بوعادی فرانس میں پیدا ہوئے۔ وہ فرانس کی یوتھ ٹیموں کا حصہ رہے اور انہیں مستقبل میں فرانس کی قومی ٹیم کا ممکنہ کھلاڑی سمجھا جا رہا تھا۔
تاہم ورلڈ کپ سے قبل انہوں نے مراکش کی نمائندگی کا فیصلہ کیا۔ فیفا نے مئی میں ان کی نیشنلٹی سوئچ کی درخواست منظور کی، جس کے بعد وہ مراکش کی قومی ٹیم کے لیے کھیلنے کے اہل ہو گئے۔
بوعادی نے ورلڈ کپ میں برازیل کے خلاف اپنے پہلے میچ میں شاندار کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے دباؤ کے باوجود پُراعتماد کھیل پیش کیا اور مراکش کے مڈفیلڈ کو مضبوطی سے سنبھالا۔
برازیل کے خلاف میچ میں انہوں نے 91 فیصد پاس مکمل کیے، جبکہ اٹیکنگ تھرڈ میں ان کے تمام 16 پاس کامیاب رہے۔
ایوب بوعادی فرانس کے کلب لل کے لیے کھیلتے ہیں۔ وہ حال ہی میں فرانس کی ٹاپ فٹبال لیگ، لیگ ون، میں 50 میچ کھیلنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بھی بنے۔
ان کی صلاحیت صرف دفاعی مڈفیلڈ تک محدود نہیں۔ وہ مخالف ٹیم کے حملے روکنے کے ساتھ ساتھ گیند آگے بڑھانے، پاسنگ، ٹیمپو کنٹرول کرنے اور اٹیک شروع کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بوعادی کے والد حسن بوعادی سابق ہینڈبال کھلاڑی رہے ہیں، جبکہ بعد میں انہوں نے بینکنگ اور مقامی سیاست میں بھی کام کیا۔ ایوب نے کم عمری سے فٹبال شروع کی، مگر تعلیم کو بھی اہمیت دی۔ وہ 16 سال کی عمر میں فرانسیسی بکلوریا امتحان دے چکے ہیں اور ریاضی کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔
مراکش کے کوچ محمد اوحبی کے مطابق بوعادی کو مراکش کے لیے کھیلنے پر آمادہ کرنے کے لیے کئی ملاقاتیں کی گئیں۔ برازیل کے خلاف ان کی کارکردگی کے بعد مراکشی شائقین انہیں ٹیم کا نیا اسٹار قرار دے رہے ہیں۔
فرانس میں اب اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ کوچ دیدیئر دیشان نے بوعادی کو ورلڈ کپ کے لیے فرانس کی سینئر ٹیم میں شامل کیوں نہیں کیا۔ بعض سابق کھلاڑیوں اور تجزیہ کاروں نے اس فیصلے کو فرانس کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
مراکش نے قطر ورلڈ کپ 2022 میں سیمی فائنل تک پہنچ کر تاریخ رقم کی تھی۔ اب ایوب بوعادی جیسے نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ مراکش ایک نئے انداز اور نئی نسل کی ٹیم کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
۔