‘3 ہزار روسی کمپنیاں ازبکستان میں کام کر رہی ہیں’، ازبکستان اور روس کا سرمایہ کاری منصوبوں کو آگے بڑھانے پر اتفاق

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف اور روسی وزیرِاعظم میخائل میشوستن نے تاشقند میں ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات، تجارتی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری منصوبوں کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

روسی وزیرِاعظم میخائل میشوستن پانچویں تاشقند بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم میں شرکت کے لیے ازبکستان گئے تھا۔ اس موقع پر انہوں نے صدر شوکت مرزائیوف سے ملاقات بھی کی۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ازبکستان اور روس کے درمیان اعلیٰ سطح پر طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔ فریقین نے تجارت، صنعت، توانائی، دھات سازی، زراعت، تیل و گیس، کان کنی، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

رواں سال کے آغاز سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ گزشتہ ایک دہائی میں دوطرفہ تجارت تین گنا سے زیادہ بڑھ کر 13 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

روسی وزیرِاعظم کے مطابق روس ازبکستان کی معیشت میں بڑے سرمایہ کاروں میں شامل ہے۔ تقریباً 3 ہزار روسی کمپنیاں ازبکستان میں 150 بڑے سرمایہ کاری منصوبوں پر کام کر رہی ہیں، جن کی مجموعی مالیت 50 ارب ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھ رہا ہے۔ ازبکستان کے پہلے جوہری بجلی گھر کی تعمیر روسی ڈیزائن کے تحت کی جا رہی ہے، جبکہ روسی ماہرین ازبکستان کے بڑے پن بجلی منصوبوں اور گیس پائپ لائن کی اپ گریڈیشن میں بھی شامل ہیں۔

تاشقند سرمایہ کاری فورم سے خطاب میں میخائل میشوستن نے کہا کہ عالمی معیشت اس وقت بڑی تبدیلیوں، تجارتی جنگوں اور تحفظ پسندانہ پالیسیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں ازبکستان اور روس کو مستحکم معاشی ترقی کے لیے مشترکہ منصوبوں پر مزید توجہ دینی چاہیے۔

میشوستن نے صنعتی تعاون کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاشقند، جیزاخ اور نوائی میں مشترکہ ٹیکنالوجی اور صنعتی پارکس پر کام جاری ہے، جبکہ ریلوے سازوسامان اور کمرشل گاڑیوں کی تیاری کے منصوبے بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔

ازبکستان اور روس کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی تعلقات بھی مضبوط ہو رہے ہیں۔ ازبکستان میں روسی یونیورسٹیوں کی کئی شاخیں کام کر رہی ہیں، جبکہ دونوں ممالک ثقافتی تبادلوں اور سیاحتی روابط کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔

روسی وزیرِاعظم نے کہا کہ ماسکو ازبکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ازبک حکام اور کاروباری نمائندوں کو روس میں ہونے والی بین الاقوامی صنعتی نمائش انوپروم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ازبکستان اور روس کے تعلقات صرف تجارت تک محدود نہیں، بلکہ توانائی، صنعت، تعلیم، ثقافت اور علاقائی تعاون سمیت کئی شعبوں میں مسلسل گہرے ہو رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں