پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان عبوری حکومت کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ داعش خراسان کے ٹھکانوں کو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایکس پر وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیک اکاونٹ پر بتایا گیا ہے کہ یہ دعوے غلط ہیں۔ بیان کے مطابق، داعش اور دو درجن سے زائد دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے افغان حکام کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں موجود ہیں، جہاں سے خطے اور ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی کی جاتی ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ افغان انتظامیہ کا ایک ابتدائی نوعیت کا ڈرون شینکو، خیبر کے قریب پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا، جسے پاکستان ایئر فورس کے الرٹ ایئر ڈیفنس سسٹم نے فوری طور پر شناخت کر کے ناکارہ بنا دیا۔
وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ ایسے بیانات دہشت گردی کی سرپرستی چھپانے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔
اس سے قبل افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ سلسلہ وار پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘جمعرات کی رات، اسلامی امارت افغانستان کی وزارت دفاع کی فضائیہ نے پاکستان کے صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں’۔