افغان عبوری حکومت کے ساتھ وسطی ایشیائی ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہونے لگے، دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ

افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد وسطی ایشیائی ممالک نے افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسی کو محتاط انداز میں تبدیل کیاہے۔ ابتدا میں یہ تعلقات زیادہ تر سکیورٹی، سرحدی امور اور محدود معاشی تعاون تک محدود تھے، مگر اب یہ رابطے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ دی دپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق اپریل میں کابل میں افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان پہلی مشاورتی بات چیت ہوئی، جس نے خطے میں تعاون کے ایک نئے سفارتی پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان باقاعدہ سیاسی، معاشی اور علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ازبکستان اس عمل میں سب سے زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ تاشقند نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، تاہم وہ ایک عملی پالیسی کے تحت افغانستان کے ساتھ رابطے، تجارت اور ٹرانسپورٹ منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔

ازبکستان کی خاص توجہ ٹرانس افغان ٹرانسپورٹ کوریڈور پر ہے، جس کے ذریعے وسطی ایشیا کو افغانستان کے راستے جنوبی ایشیا اور سمندری بندرگاہوں تک رسائی مل سکتی ہے۔ ازبک حکام کے مطابق، اس منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی پر کام فعال مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قازقستان بھی افغانستان کے ساتھ تعلقات کو طویل المدتی بنیادوں پر بڑھا رہا ہے۔ قازق حکام نے دو طرفہ تجارت کو تقریباً 50 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 3 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے ریلوے، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

تاجکستان کی پالیسی نسبتاً محتاط ہے، کیونکہ وہ افغانستان کے ساتھ سرحدی سکیورٹی کو بہت اہم سمجھتا ہے۔ اس کے باوجود دوشنبے اور کابل کے درمیان سفارتی رابطے بڑھے ہیں، جبکہ تاجک حکام طالبان نمائندوں کے ساتھ سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق، کرغزستان کے تعلقات افغانستان کے ساتھ دیگر وسطی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں کم وسیع ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کابل میں کرغز ٹریڈ ہاؤس کا افتتاح اور افغان کرغز بزنس فورم اسی سلسلے کی اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

ترکمانستان اور افغانستان کے تعلقات میں توانائی منصوبے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ، جس کے ذریعے ترکمانستان کی گیس افغانستان، پاکستان اور بھارت تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ بجلی، ریلوے اور تجارتی تعاون پر بھی بات چیت جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کی جانب سے وسطی ایشیا کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی تنہائی ہے۔ طالبان حکومت عالمی سطح پر محدود سفارتی قبولیت رکھتی ہے، اس لیے کابل کے لیے وسطی ایشیائی ممالک اہم معاشی اور سفارتی شراکت دار بن چکے ہیں۔

پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعات اور تجارتی راستوں کی بار بار بندش نے بھی افغانستان کو متبادل تجارتی اور ٹرانزٹ راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اسی وجہ سے ازبکستان اور ترکمانستان کی اہمیت کابل کے لیے مزید بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر وسطی ایشیا اور طالبان حکومت کے درمیان تعلقات اب صرف سکیورٹی تک محدود نہیں رہے، بلکہ تجارت، توانائی، ریلوے، ٹرانسپورٹ اور علاقائی رابطوں تک پھیل چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں