ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے کہا ہے کہ ٹرانس افغان ریلوے منصوبے پر کام فعال طور پر جاری ہے اور یہ منصوبہ ازبکستان کو جنوبی بندرگاہوں تک براہِ راست رسائی فراہم کرے گا۔
ازبک صدارتی دفتر کے مطابق، صدر مرزائیوف نے یہ بات پانچویں تاشقند بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم سے خطاب کے دوران کہی۔
اپنے خطاب میں ازبک صدر نے معاشی اور سرمایہ کاری تعاون، سبز توانائی، مصنوعی ذہانت، مالیاتی منڈیوں، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور علاقائی ٹرانسپورٹ رابطوں کے فروغ پر بات کی۔
ٹرانس افغان راہداری کا ذکر کرتے ہوئے صدر مرزائیوف نے کہا کہ ازبکستان اس منصوبے پر تیزی سے کام کر رہا ہے، جو ملک کو جنوبی سمندری بندرگاہوں تک براہِ راست رسائی دے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے ازبکستان ایشیا اور یورپ کو ملانے والے ٹرانزٹ راستوں کے وسیع نیٹ ورک سے منسلک ہو جائے گا۔
صدر مرزائیوف نے یہ بھی کہا کہ ازبکستان چین اور کرغزستان کے ساتھ ایک بڑے ریلوے پروگرام پر بھی کام کر رہا ہے۔
پانچواں تاشقند بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم منگل کو شروع ہوا، جس میں مختلف ممالک کے حکام، سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
افغان عبوری حکومت کا وفد بھی اس فورم میں شریک ہے۔ افغانستان، ازبکستان اور پاکستان نے فروری 2021 میں افغانستان کے راستے 573 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کی تعمیر کے لیے معاہدہ کیا تھا۔
اس منصوبے کی لاگت تقریباً 4.8 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے، جبکہ اس کا مقصد علاقائی معاشی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔ روس اس منصوبے میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔