فرانس میں ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس میں رہنماؤں نے یوکرین کی حمایت جاری رکھنے اور اس کے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔
اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ جی سیون ممالک یوکرین کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ یوکرین کو مزید فضائی دفاعی نظام، میزائل شکن آلات، انٹرسیپٹرز اور طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیتوں کی فراہمی تیز کی جائے گی۔ بیان کے مطابق یوکرین کو ایسے لائسنس دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جن کی مدد سے وہ اپنی دفاعی پیداوار بڑھا سکے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے اجلاس میں شرکت کی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ زیلینسکی طویل عرصے سے اتحادی ممالک سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ یوکرین کو اپنے انٹرسیپٹرز بنانے کی اجازت دی جائے کیونکہ امریکی دفاعی نظام اور میزائل شکن آلات کی کمی کا سامنا ہے۔
جی سیون رہنماؤں نے روس کی جنگی معیشت پر دباؤ بڑھانے کا بھی عزم ظاہر کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ روس کے تیل اور گیس کے شعبوں پر پابندیاں مزید سخت کی جائیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روس کو معاہدہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان امن کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے، تاہم ان کے ماضی میں جنگیں ختم کرانے سے متعلق دعوے متنازع رہے ہیں۔
صدر زیلینسکی نے کہا کہ جی سیون اجلاس میں یوکرین کو اہم یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں، جن میں فضائی دفاعی میزائل، ان کی تیاری کے لائسنس، موسم سرما کے لیے امدادی پیکج اور روس پر دباؤ بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں۔
اجلاس میں امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق معاہدے کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔ برطانیہ اور فرانس نے سمندری تجارت کی بحالی اور تجارتی جہازوں کے تحفظ میں مدد کی پیشکش کی۔
جی سیون رہنماؤں نے لبنان میں فوری اور مضبوط جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا تاکہ لبنانی حکومت کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور ریاستی عمل داری مضبوط بنانے میں مدد مل سکے۔
فرانس کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں رہنما بعد ازاں اہم معدنیات اور عالمی معاشی عدم توازن کے معاملے پر بھی بات چیت کریں گے۔