فرانس میں جاری جی سیون اجلاس کے آخری روز مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور اس کے محفوظ استعمال پر اہم بات چیت ہو رہی ہے، جس میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان بھی شریک ہیں۔
اجلاس میں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین، گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ ڈیمس ہسابس اور انتھروپک کے سربراہ ڈاریو امودی سمیت کئی اہم شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔ اس نشست کا موضوع ‘مصنوعی ذہانت کو محفوظ، تیز اور مؤثر انداز میں استعمال کرنا’ ہے۔
اس کے علاوہ کینیڈا کی کوہیر اے آئی، فرانس کی مسترال، جرمنی کی بلیک فاریسٹ لیبز، اٹلی کی ڈومن، جاپان کی سکانا اے آئی اور برطانیہ کی سنتھیزیا جیسی کمپنیوں کے سربراہان بھی اجلاس میں موجود ہیں۔
یورپ میں اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجی شعبوں میں امریکی کمپنیوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہو چکا ہے۔ یورپی کمیشن نے رواں ماہ ٹیکنالوجی کی خودمختاری سے متعلق ایک منصوبہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد یورپ میں اپنی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یورپ، کینیڈا یا دیگر ممالک جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تک رسائی سے محروم ہو جائیں تو وہ ایک کمزور پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں انتھروپک کی جانب سے امریکی حکومتی حکم کے بعد اپنے جدید ماڈلز تک غیر امریکی صارفین کی رسائی معطل کرنا بھی اسی تشویش کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممالک کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی صلاحیتیں بڑھانے اور متبادل راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون طویل عرصے سے ڈیجیٹل خودمختاری کے حامی رہے ہیں۔ ان کی حکومت سرکاری ملازمین کو غیر ملکی ویڈیو کانفرنسنگ پلیٹ فارمز کے بجائے مقامی نظام استعمال کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔
جی سیون اجلاس میں مصنوعی ذہانت پر بات چیت کا مقصد اس ٹیکنالوجی کے فوائد، خطرات اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات کو سمجھنا ہے، تاکہ ممالک اسے معاشی ترقی اور عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر سکیں۔
جی سیون میں فرانس، امریکہ، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، جاپان اور برطانیہ شامل ہیں، جبکہ برازیل، بھارت، کینیا اور جنوبی کوریا کو بھی بعض نشستوں میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔