فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے دوسرے دن عالمی رہنماؤں کی توجہ امریکہ اور ایران کے مجوزہ معاہدے، عالمی تجارت، چین اور مصنوعی ذہانت کے ضابطوں پر مرکوز رہی۔
یہ اجلاس فرانس کے شہر ایویان لے بینز میں ہو رہا ہے، جہاں دنیا کی بڑی معیشتوں کے رہنما عالمی معیشت اور تجارتی معاملات پر گفتگو کر رہے ہیں۔ امکان ہے کہ ان مباحث میں چین کا کردار بھی زیرِ بحث آئے گا۔
اجلاس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کی نگرانی کا معاملہ بھی اہم موضوع ہے۔ یہ بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ نے غیر ملکی صارفین کو امریکی کمپنی اینتھروپک کے جدید ترین اے آئی ماڈلز کے استعمال سے روک دیا ہے، جس پر یورپ میں تشویش پائی جاتی ہے۔
اختلافات کے باوجود اجلاس کا ماحول اب تک نسبتاً خوشگوار بتایا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی رہنماؤں کے بارے میں نرم لہجہ اختیار کیا ہے اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کی تعریف بھی کی ہے۔
یورپی رہنماؤں نے بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ خوشگوار تعلقات دکھانے کی کوشش کی۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے منگل کو صدر ٹرمپ کو 47 نمبر والی فٹبال جرسی پیش کی، جو ان کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر دی گئی۔
تاہم منگل کو یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ پر ہونے والی گفتگو میں بعض اختلافات بھی سامنے آئے۔ یورپی رہنما اب بھی امریکہ اور ایران کے معاہدے کی مکمل تفصیلات کے منتظر ہیں، جس پر ٹرمپ انتظامیہ جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بات کی، تاہم انہوں نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے کسی مضبوط امریکی عزم کا اظہار نہیں کیا۔ صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ یہ جنگ ہزاروں میل دور ہو رہی ہے۔