تاشقند میں امریکہ اور ازبکستان کا کاروباری فورم، 193 امریکی کمپنیوں کی شرکت، سرمایہ کاری تعاون میں بڑی پیش رفت

تاشقند میں پانچویں سالانہ تاشقند بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم کے موقع پر امریکہ اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم “امریکن-ازبک کاروباری فورم” منعقد کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، مالیاتی اداروں اور بڑی امریکی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

یہ فورم تاشقند کے نمائش مرکز کے کوکند ہال میں منعقد ہوا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا اور اہم شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے روزگار کے نئے امکانات پیدا کرنا تھا۔ تقریب میں روسی اور انگریزی زبان میں بیک وقت ترجمے کا انتظام بھی کیا گیا۔

ازبکستان کے وزیرِ سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لذیز قدرتوف نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ اس سال فورم میں 193 امریکی کمپنیاں شریک ہیں، جو دونوں ممالک کی تاریخ میں سب سے بڑی امریکی کاروباری نمائندگی ہے۔ ان کے مطابق یہ بات اس امر کی علامت ہے کہ امریکی کاروبار ازبکستان کو صرف ایک منڈی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سرمایہ کاری شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

فورم کے دوران ایک اعلیٰ سطح نشست اور ایک خصوصی گفتگو بھی ہوئی، جس میں “جدت، سرمایہ کاری اور روزگار: امریکہ-ازبک تعاون کے نئے مواقع” کے عنوان سے دونوں ممالک کے حکومتی اداروں، مالیاتی اداروں اور بڑی کمپنیوں کے درمیان عملی تعاون پر بات چیت کی گئی۔

امریکی ترقیاتی مالیاتی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ وسطی ایشیا ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا خطہ ہے جس کی آبادی دس کروڑ سے زیادہ ہے اور یہاں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ اس خطے کے ساتھ طویل المدتی اور گہرے تعاون کے لیے تیار ہے۔

اسی طرح امریکی برآمدات و درآمدات بینک کے صدر نے کہا کہ ان کی شمولیت مالیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنائے گی اور ازبکستان کے نجی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، آلات اور خدمات کے فروغ میں مدد دے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وقت دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سطح پر لے جانے کا ایک اہم موقع ہے۔

فورم کے دوران ایک اور اہم نشست میں معدنی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی کے موضوع پر گفتگو ہوئی، جس میں عالمی کمپنیوں کے نمائندوں نے صنعتی ترقی اور مستقبل کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔

فورم کے اختتام پر صنعت، تیل و گیس، مالیات، ہوا بازی، معدنی تحقیق، سیٹلائٹ رابطوں اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جنہیں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں