فرانس میں ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس میں ایران اور یوکرین کے معاملات اہم ترین موضوعات کے طور پر زیرِ بحث ہیں، جبکہ عالمی رہنما امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر زور دے رہے ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مستقل خاتمہ ممکن ہو سکے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، جو فرانس کے شہر ایویان لی بان میں اس اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں، نے کہا کہ سب سے بڑی ترجیح ایک مضبوط، سنجیدہ اور مکمل معاہدے کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق منگل کے روز ہونے والے ورکنگ لنچ میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کے اقدامات، ممکنہ فرانسیسی-برطانوی بحری مشن، اور تیل و گیس کی متبادل ترسیلی راہداریوں پر غور کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز جمعے کے روز مکمل طور پر کھول دی جائے گی، جس دن جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان باضابطہ معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔
پیر کے روز ڈیجیٹل طور پر دستخط کیے جانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت 60 روزہ مذاکراتی مدت فراہم کی جائے گی، جس میں ایران کے افزودہ یورینیم، پابندیوں کے خاتمے اور دیگر حساس معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔
جی 7 گروپ میں امریکہ، فرانس، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، جاپان اور یورپی یونین شامل ہیں۔ اجلاس میں متحدہ عرب امارات، قطر اور مصر کے رہنما بھی شریک ہوں گے، تاہم الجزیرہ کے مطابق وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی مذاکرات میں براہِ راست حصہ نہیں لیں گے۔
صدر ٹرمپ پیر کی شام فرانس پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ بڑی کامیابیوں کا باعث بنے گا۔ اجلاس سے قبل فرانس، جرمنی، اٹلی، برطانیہ اور کینیڈا کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں امریکہ، ایران اور ثالثی کرنے والے ممالک کو مبارکباد دیتے ہوئے اس پیش رفت کو سفارتی کامیابی قرار دیا۔
ایمانوئل میکرون نے بعد ازاں کہا کہ فرانس اور اس کے مغربی شراکت دار آبنائے ہرمز کو پُرامن طریقے سے دوبارہ کھولنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ فرانس اور برطانیہ پہلے ہی اس اہم بحری راستے میں سلامتی بحال کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی حمایت کر چکے ہیں۔
دوسری جانب یوکرین کا معاملہ بھی اجلاس کے اہم ایجنڈے میں شامل ہے۔ الجزیرہ کےمطابق، یورپی رہنما امریکی صدر ٹرمپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ماضی کی بعض امریکی تجاویز ماسکو کے حق میں زیادہ نرم تھیں۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی منگل کے اجلاس کے پہلے سیشن میں شرکت کریں گے، جس کا موضوع “یوکرین میں امن کی تعمیر” ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ سے الگ ملاقات بھی کریں گے۔
زیلنسکی نے ایک بار پھر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی پیشکش کی ہے، تاہم پیوٹن اس سے قبل ایسی تجویز مسترد کر چکے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ جب تک کوئی قابلِ عمل معاہدہ تیار نہ ہو، ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر نے کہا کہ یوکرین نہ صرف محاذ پر ڈٹا ہوا ہے بلکہ بعض علاقوں میں پیش قدمی بھی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق روس پر عائد پابندیوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور روسی معیشت جنگ کے بوجھ تلے کمزور پڑ رہی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، یورپی ممالک ایک طرف روس کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتے ہیں جبکہ دوسری جانب ماسکو پر مزید پابندیاں عائد کرنے اور یوکرین کی فوجی امداد بڑھانے کے حق میں ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ امن کی راہ میں اصل رکاوٹ کیف نہیں بلکہ ماسکو ہے۔
ادھر صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اتوار کے روز زیلنسکی اور پیوٹن دونوں سے مثبت گفتگو کی اور ان کا خیال ہے کہ دونوں رہنما جنگ کے خاتمے کے لیے کسی نہ کسی پیش رفت پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔