امریکا میں مقیم ایرانی برادری ملی فٹبال ٹیم کی حمایت اور مخالفت پر منقسم کیوں ہے؟

امریکا کے شہر لاس اینجلس میں مقیم ایرانی برادری اس بات پر منقسم ہے کہ فٹبال ورلڈ کپ میں ایران کی قومی ٹیم کی حمایت کی جائے یا اس کے خلاف احتجاج کیا جائے۔ شہر کے ویسٹ ووڈ علاقے میں، جہاں ایرانی ثقافت کے نمایاں اثرات موجود ہیں، ٹیم ملی (ایران کی قومی ٹیم) کے حوالے سے جذبات شدید اور مختلف ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق، کچھ ایرانی نژاد امریکی کارکنوں اور سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم ایرانی حکومت کی نمائندہ ہے، اس لیے وہ اس کی حمایت نہیں کریں گے اور اس کے خلاف احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت کے خلاف اختلافِ رائے کے باعث ٹیم کو سپورٹ کرنا مناسب نہیں۔

لاس اینجلس میں ایک کتاب فروش روزبہ فارہانی پور نے کہا کہ کمیونٹی مکمل طور پر ایک رائے پر متفق نہیں ہے۔ ان کے مطابق، کچھ لوگ ٹیم کو حکومت سے الگ سمجھتے ہیں اور صرف کھیل سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں، جبکہ کچھ اسے ریاستی نمائندگی تصور کرتے ہیں۔

ایک اور ایرانی نژاد سماجی کارکن سُدی فاروقنیا نے کہا کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنا چاہیے، جیسے لوگ اپنی سیاسی رائے کے باوجود اپنی قومی ٹیموں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، فٹبال ایک عالمی کھیل ہے اور اسے سیاسی تقسیم سے اوپر ہونا چاہیے۔

دوسری جانب کچھ افراد کا مؤقف ہے کہ ایران کی قومی ٹیم حکومت کی نمائندہ ہے اور اسی وجہ سے وہ اس کی حمایت نہیں کر سکتے۔ ایک مقامی کتاب فروش سام بیگزادہ نے کہا کہ ان کے نزدیک ٹیم حکومت کی نمائندگی کرتی ہے، نہ کہ عوام کی۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی ٹیم کی آمد اور میچ کے دوران احتجاج کے امکانات بھی موجود ہیں، جس کے پیش نظر امریکی حکام نے سیکیورٹی سخت کر دی ہے اور ٹیم کی نقل و حرکت کے دوران اضافی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اسی دوران فیفا کے سیاسی علامات پر پابندی کے قوانین بھی بحث کا مرکز بن گئے ہیں، خاص طور پر ایران کے پرانے شاہی دور کے “شیر اور سورج” والے پرچم کے استعمال پر، جس پر بعض افراد نے پابندی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی ٹیم کے کوچ امیر قلعہ نوئی نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم دنیا بھر کے ایرانیوں کی نمائندگی کرتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ فٹبال مختلف ثقافتوں کو قریب لائے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے شائقین کو بھی امریکا کے سفری قوانین کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، جس سے ورلڈ کپ کے ماحول میں مزید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں