پاکستان کی ثالثی میں ایران-امریکا امن معاہدے پر اتفاق، دنیا سے کیا ردِعمل آیا؟

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کے معاہدے کے اعلان کے بعد دنیا بھر سے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک اور عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب سب سے پہلے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر امن معاہدے کا اعلان کیا جس کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی اور کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کے لیے کھول دیا جائے گااور امریکی بحری ناکہ بندی بھی فوری طور پر ختم کی جائے گی۔ دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ پابندیوں میں نرمی سمیت دیگر معاملات پر آئندہ 60 روز کے دوران مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاہدے کو سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے امریکا اور ایران کو تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے معاہدے کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔ شہباز شریف کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔

قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ امریکا اور ایران کی جانب سے اختلافات کو مذاکرات اور پرامن ذرائع سے حل کرنے کے عزم کو سراہتی ہے۔ قطری وزیر مملکت محمد بن عبدالعزیز الخلیفی نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں استحکام کے فروغ اور دیگر تنازعات کے حل کے لیے بھی مثبت مثال ثابت ہوگا۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں امن اور سکون کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر دیرپا امن کے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے معاہدے کو تنازع کے پرامن حل کی جانب ایک نہایت اہم قدم قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے خطے میں کشیدگی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لائن نے کہا کہ اب سب سے اہم مرحلہ معاہدے پر مکمل اور فوری عملدرآمد ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ اور بلا محصول بحری آمدورفت کی بحالی علاقائی استحکام اور عالمی معیشت کے لیے ضروری ہے، جبکہ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی سے متعلق مزید مذاکرات کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے معاہدے کو جنگ کے خاتمے کی جانب ایک انتہائی اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں آزاد بحری آمدورفت فوری طور پر بحال ہونی چاہیے اور اگر ضرورت پڑی تو برطانیہ سمندری راستوں کی صفائی کے اقدامات میں بھی تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام وعدوں پر مؤثر اور قابل تصدیق عملدرآمد ضروری ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے آبنائے ہرمز کو فوری اور غیر مشروط طور پر کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سمندری تجارت کی بحالی عالمی معیشت اور خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے لبنان میں ریاستی اداروں کے استحکام اور ملکی خودمختاری کے فروغ کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کا خیرمقدم کرتے ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید معاشی خلل پیدا ہوا اور متعدد ممالک میں انسانی جان ضائع ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو امید ہے کہ اس مفاہمت سے خطے میں امن و استحکام آئے گا اور بحری آمدورفت اور تجارت کی آزادی یقینی بنائی جا سکے گی۔

بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ڈھاکا مسلسل سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل اور کشیدگی میں کمی کا حامی رہا ہے۔ بیان میں امید ظاہر کی گئی کہ معاہدے پر نیک نیتی سے عملدرآمد ہوگا اور یہ پائیدار ثابت ہوگا۔

جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ کو زیادہ محفوظ بنا سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی نئی توانائی فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ معاہدے پر مکمل عزم کے ساتھ عمل کریں۔

دوسری جانب اسرائیل میں اس معاہدے پر ملے جلے ردِعمل سامنے آئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل لبنان، شام اور غزہ میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے دستبردار نہیں ہوگا اور اگر ایران نے اسرائیل پر
حملہ کیا تو سخت جواب دیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اسے اسرائیل اور ‘آزاد دنیا’ کے لیے ‘نقصان دہ’ قرار دیا اور کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

فروری میں شروع ہونے والی خونریز جنگ کے 4 ماہ بعد پاکستان کی ثالثی میں یہ امن معاہدہ طے پایا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں