صحت و تعلیم پر اخراجات کم، جبکہ غربت میں 28 فیصد اضافہ؛ پاکستان کی اکنامک سروے رپورٹ انسانی ترقی کے شعبوں کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

پاکستان اکنامک سروے 2025-26 میں حکومت نے بعض سماجی اشاریوں میں بہتری کا دعویٰ کیا ہے، لیکن رپورٹ مجموعی طور پر یہ تاثر دیتی ہے کہ تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے شعبے اب بھی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

شرحِ خواندگی میں اضافہ، مگر صنفی اور دیہی فرق برقرار

سروے کے مطابق 10 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی شرحِ خواندگی 61 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے۔ مردوں میں یہ شرح 73 فیصد اور خواتین میں 54 فیصد ہے۔

شہری علاقوں میں خواندگی 74 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں صرف 55 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ پنجاب میں شرحِ خواندگی سب سے زیادہ 68 فیصد رہی، جبکہ بلوچستان 49 فیصد کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔ دیہی بلوچستان میں خواتین کی خواندگی صرف 25 فیصد بتائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دیہی خواتین کی تعلیم میں بہتری آئی ہے، لیکن علاقائی اور صنفی عدم مساوات اب بھی نمایاں ہے۔

تعلیم پر خرچ تاریخی کم ترین سطح کے قریب

تعلیم کے شعبے پر سرکاری اخراجات مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ 2024-25 میں تعلیم پر خرچ جی ڈی پی کا صرف 0.8 فیصد رہا، جو 2022-23 میں 1.5 فیصد اور 2019-20 میں 1.9 فیصد تھا۔

رقمی لحاظ سے تعلیم پر خرچ 962 ارب روپے رہا، جو گزشتہ برس کے 1251 ارب روپے سے کم ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 28 فیصد بچے اب بھی سکول سے باہر ہیں۔ بلوچستان میں یہ شرح 45 فیصد، سندھ میں 39 فیصد، پنجاب میں 21 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 28 فیصد ہے۔

سکولوں کی بنیادی سہولیات سے متعلق اعداد و شمار بھی تشویش ناک ہیں۔ ملک بھر میں صرف 65 فیصد سکولوں کو بجلی میسر ہے، جبکہ بلوچستان کے صرف 15 فیصد پرائمری سکولوں میں بجلی موجود ہے۔

صحت پر خرچ بھی 1 فیصد سے کم

سروے کے مطابق صحت پر سرکاری اخراجات بھی جی ڈی پی کے 1 فیصد سے کم، یعنی 0.8 فیصد رہے۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں صحت کے لیے 19.37 ارب روپے مختص کیے گئے۔

چند اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی ہے۔اوسط عمر 66.5 سال سے بڑھ کر 67.8 سال ہو گئی، شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح 60 سے کم ہو کر 47 فی ہزار پیدائش رہ گئی، اور حفاظتی ٹیکوں کی شرح 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد تک پہنچ گئی۔

تاہم پاکستان اب بھی جنوبی ایشیا کے اوسط سے پیچھے ہے۔جنوبی ایشیا میں اوسط عمر 72.6 سال ہے، جبکہ پاکستان میں 67.8 سال ہے۔ پاکستان میں شیر خوار بچوں کی اموات 47 فی ہزار ہیں، جو جنوبی ایشیا کے اوسط 23.2 سے تقریباً دوگنا ہیں۔ زچگی کے دوران اموات کی شرح پاکستان میں 155 فی ایک لاکھ پیدائش ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں 120 ہے۔

غذائی قلت کے اعداد و شمار بھی پریشان کن ہیں۔ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر 33.6 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ جنوبی ایشیا کا اوسط 31.5 فیصد ہے۔

مہنگائی اور غربت میں اضافہ

سروے کے مطابق قومی غربت کی شرح 2018-19 کے 21.9 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 28.9 فیصد ہو گئی ہے، یعنی تقریباً 7 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

دیہی علاقوں میں غربت 36.2 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 17.4 فیصد رہی۔صوبائی سطح پر بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے، جہاں غربت 47 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ سندھ میں یہ شرح 32.6 فیصد، خیبرپختونخوا میں 35.3 فیصد اور پنجاب میں 23.3 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، آئی ایم ایف کے اقدامات، سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے عوام کی قوتِ خرید کو کمزور کیا ہے۔

روزگار بڑھا، مگر بے روزگاری بھی بڑھی

2020-21 سے 2024-25 کے دوران روزگار حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 67.25 ملین سے بڑھ کر 77.2 ملین ہو گئی، لیکن بے روزگار افراد کی تعداد بھی 4.51 ملین سے بڑھ کر 5.9 ملین تک پہنچ گئی۔

بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد سے بڑھ کر 7.1 فیصد ہو گئی، جبکہ صنعت اور مینوفیکچرنگ میں روزگار کا حصہ تقریباً جمود کا شکار رہا۔

اکنامک سروے میں حکومت نے معاشی استحکام، زرِمبادلہ کے ذخائر اور مالی نظم و ضبط کو نمایاں کامیابی قرار دیا ہے، لیکن سماجی شعبوں کے اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

تعلیم اور صحت پر مجموعی سرکاری خرچ ملا کر بھی قومی آمدنی کا صرف 1.6 فیصد بنتا ہے، جبکہ نوجوان آبادی، سکول سے باہر بچوں، غذائی قلت اور بے روزگاری جیسے مسائل اب بھی بڑے پیمانے پر موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں