یورپی یونین افغان مہاجرین کی واپسی کے معاملے پر افغان حکام کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تیاری کر رہی ہے، جس کے لیے افغان وفد کو بروکسل مدعو کیے جانے کا امکان ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی کمیشن نے افغان وفد کے ممکنہ ارکان کی فہرست بلجیم کے حکام کو بھجوا دی ہے تاکہ ویزوں اور سیکیورٹی سے متعلق امور کا جائزہ لیا جا سکے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ویزوں کے اجرا کے پیچیدہ مراحل کے باعث ملاقات کسی دوسرے مقام پر بھی منعقد ہو سکتی ہے۔
مجوزہ مذاکرات میں یورپی ممالک میں مقیم افغان مہاجرین، خصوصاً ان افراد کی وطن واپسی کے طریقۂ کار پر بات چیت متوقع ہے جنہیں بعض ممالک سیکیورٹی خطرہ یا غیر قانونی تارکینِ وطن قرار دیتے ہیں۔
یورپی یونین کے کمشنر برائے داخلہ و مہاجرین مگنوس برنر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے مسئلے پر موجودہ افغان حکام کے ساتھ رابطہ ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے کے حل کے لیے بات چیت کے سوا کوئی مؤثر راستہ موجود نہیں اور بیشتر یورپی ممالک بھی اس سلسلے میں پیش رفت کے خواہاں ہیں۔
یہ پیش رفت جنوری 2026 میں کابل میں ہونے والی ایک تکنیکی سطح کی ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں تقریباً 20 یورپی ممالک کے نمائندوں اور افغان حکام نے مہاجرین کی واپسی اور متعلقہ انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
دوسری جانب یورپ میں غیر قانونی ہجرت اور پناہ گزینوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کے باعث حکومتوں پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ برس کئی یورپی ممالک نے یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا تھا کہ ایسے افغان شہریوں کی واپسی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں جو قانونی طور پر قیام کے اہل نہیں یا جن کے بارے میں سیکیورٹی خدشات پائے جاتے ہیں۔
تاہم مجوزہ ملاقات پر انسانی حقوق کی بعض تنظیموں اور یورپی سیاست دانوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ افغان حکام کو بروکسل مدعو کرنا ان کی حکومت کو سیاسی حیثیت دینے کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔
یورپی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ رابطے افغان حکومت کو تسلیم کرنے کے بجائے مہاجرین سے متعلق عملی مسائل کے حل کے لیے ضروری ہیں۔