بنگلہ دیش اور بھارت نے اپنی مشترکہ سرحد پر تعاون مزید بڑھانے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مؤثر بنانے اور مشترکہ گشت میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان غیر قانونی ہجرت اور سرحد پار نقل و حرکت سے متعلق حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
نئی دہلی میں سرحدی حکام کے چار روزہ اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیےمیں بنگلہ دیش بارڈر گارڈ اور بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو مثبت، خوشگوار اور مستقبل پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے سرحدی علاقوں میں غیر قانونی، غیر ارادی اور زبردستی سرحد عبور کرنے کے واقعات سمیت مختلف معاملات پر تبادلۂ خیال کیا۔ حالیہ مہینوں میں یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان اختلاف کا سبب بنا ہوا ہے۔
بنگلہ دیش نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بعض افراد کو قانونی کارروائی مکمل کیے بغیر سرحد پار واپس بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ڈھاکا کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے اقدامات دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان چار ہزار کلومیٹر سے زائد طویل سرحد قائم ہے، جو دنیا کی طویل ترین بین الاقوامی سرحدوں میں شمار ہوتی ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کی روک تھام ان کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ بنگلہ دیش نے اس حوالے سے نئی دہلی کو متعدد سفارتی خطوط بھی ارسال کیے ہیں۔