ازبکستان اور امریکہ کے درمیان سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی تعاون بڑھانے پر اتفاق

امریکہ اور ازبکستان نے تجارت، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک نئی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا ہے۔

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں امریکی معاون وزیرِ تجارت ڈیوڈ فوگل اور ازبک وزیرِ سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لازیز قدرتوف نے معاہدے پر دستخط کیے۔

اس معاہدے کے تحت کان کنی، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت مختلف شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

ازبک میڈیا کے مطابق معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو عملی شکل دینا اور کاروباری وفود کے تبادلوں کے ذریعے نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

معاہدے سے قبل امریکی معاون وزیرِ تجارت نے ازبک صدر شوکت مرزائیوف کی صاحبزادی اور چیف آف اسٹاف سعیدہ مرزائیوف سے بھی ملاقات کی۔

سعیدہ مرزائیوف نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کی جانب سے ازبکستان میں سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے اور ضروری ہے کہ یہ دلچسپی عملی معاہدوں، روزگار کے مواقع اور اقتصادی ترقی کی صورت میں سامنے آئے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں رواں سال فروری میں کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہونے والے بی فائیو پلس ون (B5+1) اجلاس میں بھی نجی شعبے کے تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ پر زور دیا گیا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں امریکہ اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم تقریباً ایک ارب ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ سال صدر شوکت مرزائیوف نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ دس برسوں کے دوران امریکہ کے ساتھ 100 ارب ڈالر تک کی ممکنہ سرمایہ کاری کا منصوبہ زیر غور ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں