امریکی گلوکارہ اور نغمہ نگار ٹیلر سوئفٹ 36 برس کی عمر میں نغمہ نگاروں کے عالمی اعزازی ادارے “سانگ رائٹرز ہال آف فیم” میں شامل ہونے والی تاریخ کی کم عمر ترین خاتون بن گئی ہیں۔
نیویارک میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران انہیں یہ اعزاز دیا گیا، جہاں موسیقی کی دنیا سے تعلق رکھنے والی متعدد معروف شخصیات کو بھی ان کی خدمات کے اعتراف میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹیلر سوئفٹ نے کہا کہ گانے لکھنے کا عمل ان کے لیے فطری تھا اور انہوں نے یہ فن کسی باقاعدہ تربیت کے ذریعے نہیں سیکھا۔ انہوں نے اپنے والدین کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان ان کے خوابوں کی تکمیل کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے شہر منتقل ہو گیا تھا۔
جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والدین کی حمایت اور قربانیوں پر ہمیشہ شکر گزار رہیں گی کیونکہ انہی کی بدولت وہ آج اس مقام تک پہنچی ہیں۔
ٹیلر سوئفٹ نے نوجوان نغمہ نگاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے شوق اور پسندیدہ کام کو دل سے اختیار کریں کیونکہ کامیابی کے راستے میں یہی جذبہ انسان کو مشکلات کا مقابلہ کرنے کی طاقت دیتا ہے۔
تقریب میں معروف فلم ساز اسٹیون اسپیلبرگ نے ٹیلر سوئفٹ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ گیت انسانوں کے جذبات پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں اور ٹیلر سوئفٹ نے اپنی تخلیقات کے ذریعے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے۔
اس موقع پر مختلف فنکاروں نے ٹیلر سوئفٹ اور دیگر اعزاز یافتہ شخصیات کے مشہور گیت پیش کیے اور حاضرین نے ان کی خدمات کو بھرپور انداز میں سراہا۔
اس سال اعزاز حاصل کرنے والوں میں راک موسیقی سے تعلق رکھنے والے جین سیمنز اور پال اسٹینلے، نغمہ نگار کرسٹوفر سٹیورٹ، گلوکارہ الانس موریسیٹ اور گلوکار و نغمہ نگار کینی لاگنز بھی شامل تھے۔
تقریب کے دوران الانس موریسیٹ نے اپنی معروف تخلیقات پیش کیں جبکہ کینی لاگنز نے اپنے فنی سفر اور نغمہ نگاری کے تجربات حاضرین کے ساتھ شیئر کیے۔
“سانگ رائٹرز ہال آف فیم” 1969 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا مقصد موسیقی کی دنیا میں نمایاں خدمات انجام دینے والے نغمہ نگاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ اس اعزاز کے لیے ضروری ہے کہ کسی فنکار کی پہلی تخلیق کو عوام تک پہنچے کم از کم 20 برس گزر چکے ہوں۔
ماضی میں اس اعزاز سے دنیا کے متعدد نامور موسیقار اور نغمہ نگار بھی نوازے جا چکے ہیں، جنہوں نے موسیقی کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔