پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھارت کے ایک وزیر کے حالیہ بیان کے بعد سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے ضروری پانی کو روکنے یا اس میں کمی کرنے کی کسی بھی کوشش کے “دور رس اور سنگین نتائج” ہوں گے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ اگر کسی نے پاکستان کے آبی وسائل کو جان بوجھ کر روکنے کی کوشش کی تو اسے انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا، اور یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت “جنگی اقدام” کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔
یہ ردِعمل اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بھارت کے وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے کہا تھا کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کو “پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیا جائے گا”۔
ترجمان کے مطابق پاکستان 25 کروڑ سے زائد آبادی کی زندگی، زراعت اور معیشت کے لیے پانی کو انتہائی اہم سمجھتا ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو ناقابلِ قبول تصور کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دریاؤں سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور دو طرفہ معاہدوں کی مکمل پاسداری پر زور دیتا ہے، اور پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ اگر ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو اس کی ذمہ داری مکمل طور پر بھارت پر عائد ہوگی، اور پاکستان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سفارتی، قانونی اور دیگر تمام آپشنز استعمال کرے گا۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ پانی کو روکنے یا محدود کرنے کی کوشش خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے آبی مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور ایسے بیانات یا اقدامات سے گریز کرے جو خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں۔
دفترِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر اور دیگر علاقوں میں آبی وسائل سے متعلق پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
اسی بریفنگ میں ترجمان نے سویڈن کے ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے جوہری ہتھیاروں میں توسیع پاکستان کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
ان کے مطابق بھارت جدید میزائل نظام، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں اور سمندری سطح پر جوہری صلاحیت بڑھا رہا ہے، جس کے خطے کی اسٹریٹجک صورتحال پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کسی اسلحہ دوڑ کا حصہ نہیں بننا چاہتا، تاہم وہ بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
بریفنگ میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی بحری عملے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
ترجمان کے مطابق 11 پاکستانی شہری ایک جہاز کے عملے میں شامل ہیں جنہیں ایک ماہ قبل اغوا کیا گیا تھا، اور ان کی رہائی کے لیے سفارتی اور انتظامی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے صومالی حکام، جہاز کے مالکان اور متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا ہے جبکہ پاکستانی سفارت خانہ بھی اس معاملے پر سرگرم ہے۔
ترجمان نے کہا کہ صورتحال پیچیدہ اور مشکل ہے، تاہم حکومت اس مسئلے کو انتہائی ترجیح دے رہی ہے اور متاثرہ افراد کی جلد رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔