“ڈینگی کسی بھی موسم میں ہو سکتا ہے”، بھارت میں ڈینگی کے پھیلاؤ کے پیٹرن میں تبدیلی کی وجوہات کیا ہیں؟

بھارت میں ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ڈینگی اب صرف مون سون یا برسات کے موسم تک محدود بیماری نہیں رہی بلکہ سال بھر پھیلنے والا صحتِ عامہ کا ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کے غیر متوقع انداز اور تیزی سے بڑھتی شہری آبادی نے ڈینگی پھیلانے والے مچھروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے، جس کے باعث بیماری پہلے کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک برقرار رہنے لگی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی کے قریب واقع شہر گروگرام کے 32 سالہ سافٹ ویئر انجینیئر نتن شرما کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ مئی میں جب انہیں تیز بخار، شدید جسمانی درد اور کمزوری کی شکایت ہوئی تو انہوں نے اسے ایک عام موسمی وائرس سمجھا۔ تاہم خون کے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ وہ ڈینگی کا شکار ہو چکے ہیں۔

نتن شرما کا کہنا ہے کہ انہیں سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ یہ بیماری مون سون کے آغاز سے کئی ہفتے پہلے ہوئی۔ ان کے مطابق پہلے اپریل یا مئی میں ڈینگی کا تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، بھارت کے مختلف حصوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اب عام ہوتے جا رہے ہیں۔ کئی ریاستوں میں مون سون کی باقاعدہ آمد سے پہلے ہی ڈینگی کے مریض سامنے آنا شروع ہو گئے تھے۔

ہریانہ کے ایک طبی تعلیمی ادارے میں شعبۂ کمیونٹی میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر ہرش دیپ جوشی کے مطابق اب ڈینگی صرف مون سون کے بعد کے مہینوں تک محدود نہیں رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ روایتی موسم سے باہر بھی مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور بیماری کی منتقلی کا دورانیہ بڑھتا جا رہا ہے۔

ماضی میں بھارت میں ڈینگی کے کیسز عام طور پر بارشوں کے دوران بڑھتے، مون سون کے بعد عروج پر پہنچتے اور سردیوں کے آغاز کے ساتھ کم ہونا شروع ہو جاتے تھے، لیکن اب یہ واضح موسمی پیٹرن کمزور پڑتا جا رہا ہے۔

بھارت کے قومی مرکز برائے ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے کنٹرول کے اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 کے اختتام تک ملک میں ڈینگی کے 6 ہزار 927 کیسز رپورٹ ہو چکے تھے۔

ماہرین کے مطابق یہ تعداد اس لیے اہم ہے کیونکہ ماضی میں جنوری سے مئی کے دوران ڈینگی کے کیسز نسبتاً کم ہوتے تھے۔ 2021 میں جنوری سے مئی تک مجموعی طور پر 6 ہزار 837 کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے جبکہ 2022 میں اسی عرصے کے دوران 10 ہزار 172 مریض سامنے آئے تھے۔

رواں سال سب سے زیادہ کیسز جنوبی ریاست تمل ناڈو میں رپورٹ ہوئے جہاں 2 ہزار 873 افراد متاثر ہوئے۔ اس کے بعد مہاراشٹرا، کیرالا اور کرناٹک کا نمبر آتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں بھارت میں ڈینگی کے 2 لاکھ 89 ہزار 235 کیسز اور 485 اموات ریکارڈ کی گئیں، جو حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔

2024 میں 2 لاکھ 33 ہزار 519 کیسز اور 297 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ 2025 میں 1 لاکھ 21 ہزار 824 افراد متاثر ہوئے اور 131 اموات ہوئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سال بہ سال تعداد میں کمی بیشی معمول کی بات ہے کیونکہ بڑی وباؤں کے بعد آبادی میں عارضی مدافعت پیدا ہو جاتی ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری کا خطرہ کم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق ڈینگی کا جغرافیائی دائرہ اور اس کے پھیلاؤ کا دورانیہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ڈینگی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ زیادہ درجہ حرارت، نمی اور بارشوں کے بدلتے ہوئے پیٹرن مچھروں کی افزائش کے لیے موزوں حالات پیدا کر رہے ہیں۔

ایک حالیہ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ فضائی آلودگی، خصوصاً انتہائی باریک ذرات پر مشتمل آلودگی، ڈینگی کے مریضوں میں بیماری کی شدت اور اموات کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔

محققین کے مطابق فضائی آلودگی انسانی مدافعتی نظام اور خون کی شریانوں کو متاثر کرتی ہے، جس کے باعث ڈینگی کے مریضوں میں پیچیدگیاں زیادہ پیدا ہو سکتی ہیں۔

بھارت میں ڈینگی سے بچاؤ کے لیے ویکسین کی تیاری اور آزمائشوں کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔

رواں سال حکومت نے جاپانی دوا ساز کمپنی کی تیار کردہ “کیوڈینگا” ویکسین کی منظوری دی ہے جبکہ بھارتی طبی تحقیقاتی کونسل اور ایک مقامی کمپنی نے “ڈینگی آل” نامی مقامی ویکسین کے تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز کے لیے 10 ہزار سے زائد رضاکاروں کا اندراج مکمل کر لیا ہے۔

اس کے علاوہ سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا بھی اپنی ویکسین کے تیسرے مرحلے کے تجربات کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مؤثر ویکسین ایک اہم پیش رفت ہو گی، لیکن صرف ویکسین اس مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ ان کے مطابق مچھروں کی افزائش پر قابو پانا، صفائی ستھرائی، بیماری کی نگرانی، عوامی آگاہی اور صحت کے مضبوط نظام بدستور ضروری رہیں گے۔

گروگرام کے رہائشی نتن شرما کہتے ہیں کہ بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد ان کا رویہ مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ اب وہ سال بھر مچھر بھگانے والی ادویات استعمال کرتے ہیں اور گھر میں پانی جمع ہونے والی جگہوں کی باقاعدگی سے جانچ کرتے ہیں۔

ان کے بقول، “اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈینگی کسی بھی موسم میں ہو سکتا ہے۔”

اپنا تبصرہ لکھیں