کیسا جذباتی اور رلا دینے والا خلط مبحث ہے ، ایک بار تو ہلا ہی دیتا ہے۔ کشمیر ایکشن کمیٹی کے طرز عمل پر سوال اٹھائیں تو جواب آتا ہے : اچھا اب کیا کشمیری بھی غدار ہو گئے ، بلوچ بھی غدار ، پشتون بھی غدار ، سندھی بھی غدار ، مہاجر بھی غدار ،تو پھر محب وطن کون ہے؟ اس ملکہ جذبات قسم کے خلط مبحث کے ساتھ یہ طعنہ بھی ہوتا ہے کہ پنجابی کسی کو محب وطن کیوں نہیں سمجھتا۔
آئیے آج اس خلط مبحث کا جائزہ لیتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ کشمیر ایکشن کمیٹی کے رویے پر سوال اٹھانے کا یہ مطلب کیسے ہو گیا کہ کسی نے کشمیریوں کو غدار قرار دے دیا؟ یہ تو بالکل وہی واردات ہے کہ جین زی کے جملہ حقوق ، ابلاغی واردات کے ذریعے تحریک انصاف نے اپنے نام محفوظ کروا لیے جیسے باقی جماعتوں میں تو کوئی نوجوان ہے ہی نہیں ، سب قبرستانوں سے اپنی ٹانگیں نکال کر ان جماعتوں میں شامل ہونے آتے ہیں اور یہ برہم سی اٹھتی جوانیاں تو صرف تحریک انصاف میں ہیں۔
ایسا بالکل نہیں ہے۔ کسی ایک گروہ کے چند فیصلہ سازوں پر سوال اٹھ سکتا ہے ، چاہے وہ کسی بھی قوم یا طبقے کے ہوں اور اس سوال کو اس قوم کی مجموعی شناخت کے پیچھے نہیں چھپایا جا سکتا۔ سوال کشمیر کمیٹی کے فیصلہ سازوں کا ہے۔ کشمیری قوم پر کسی نے سوال نہیں اٹھایا۔
کشمیر کے نمائندے اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں ، ایک منتخب حکومت بھی بیٹھی ہے اور وہ اس انتشاری طرز عمل سے اعلان برات کر چکے۔ اب اس انتشار کی فیصلہ سازی پر جو سوال اٹھتا ہے اسے پوری قوم پر کیسے ثبت کیا جا سکتا ہے؟ یہ جذباتی ماحول پیدا کر کے قوم کی اجتماعیت کے پیچھے چھپنے کا عمل نہ دلیل کی دنیا میں معتبر ہے نہ سیاست کی دنیا میں۔ ہاں اگر کوئی یہ کہے کہ راجہ فیصل راٹھور سے لے کر سردار عتیق تک ، یہ سب مہرے ہیں اور وادی کا پہلے اور آخری دیانت دار ہینڈ سم تو قیوم نیازی صاحب ہی تھے تو اس سوچ سے مکالمہ نہیں ہو سکتا ، اس سے صرف لطف لیا جا سکتا ہے۔
کوئی اٹھتا ہے اور گلوگیر سا طعنہ دیتا ہے اب یوم کشمیر کس منہ سے مناؤگے؟ اللہ کے بندے کیا یوم کشمیر منانے کے لیے ضروری ہے کہ قوم پرست قیادت کے پاکستان کے بارے میں نازیبا نعروں اور ناتراشیہ زبان کی بھی بلائیں لی جائیں ۔ یوم کشمیر آنے دیجیے ، منا لیا جائے گا۔ فتنہ گری ہی کرنی ہے تو کشمیر کاز کے تقدس کا پیرہن مت اوڑھیے ، سیدھی فتنہ گری کیجیے۔
مکالمے سے کس نے گریز کیا؟ حکومت نے تو نہیں کیا ۔ حکومت تو اب بھی کہہ رہی ہے کہ نظام زندگی درہم برہم مت کیجیے ، آئیے مذاکرات کیجیے۔ حکومت جانتی ہے کہ کشمیر ایک حساس علاقہ ہے۔ اسی لیے حکومت نے شروعات میں ہی مطالبے مانےا ور یوں مانے کہ بجلی تین روپے فی یونٹ ہے۔ لیکن احتجاجی قیادت نے اب ان مطالبات کو ویپنائز کیا ہے۔ جان بوجھ کر ایسے مطالبات لائے جا رہے ہیں تا کہ وہ قبول نہ ہو ، تعطل آئے اور فتنہ اور پھیلے۔ کون سے مطالبات کرنے ہیں اس کا فیصلہ کون کر رہا ہے؟ قوم پرست قیادت یا کوئی ان دیکھا کردار؟ کون اس تحریک کو سٹریٹجائز کر رہا ہے؟ عام آدمی تو صرف سڑک پر آجاتا ہے ، سٹریٹجی بنانے والا کون ہے؟ یہ سوال تو اٹھیں گے۔ مطالبات مسئلہ نہیں ہیں ، جو ان کا حق ہے ، یہ ان کو ملنا چاہیے ۔ مطالبات کو ویپنائز کرنا مسئلہ ہے۔ اس کا حق کسی کو نہیں ہے ۔
جلسے جلوس تو سالوں سے ہوتے آ رہے ہیں ، خرابی تب ہوتی ہے جب شہروں کی رگ جاں بند کر دی جاتی ہے۔ یہاں معاملہ بدل جاتا ہے۔ یہی سب ہم پاکستان میں بھی دیکھ چکے ، اب یہی کشمیر میں دہرایا جا رہا ہے۔ مسائل ہر جگہ ہیں ، زرعی پنجاب کے زرعی مسائل بھی کبھی سن کر دیکھیے کہ کیا ہیں ، لیکن مسائل کے حل کے لیے بلوائی طریقہ ناقابل قبول ہے۔
ریاست کو ولن سمجھنا مسئلے کا حل نہیں ۔ ایک احمقانہ سا نعرہ ایجاد کر لیا جاتا ہے کہ ریاست کو سب غدار نظر آتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کون غدار نظر آتا ہے۔ ریاست نے شیخ مجیب جیسے فتنے کو بھی اگر تلہ سازش کیس میں ریلیف دے دیا حالانکہ یہ مقدمہ درست تھا اور وہ 60 کی دہائی سے پاکستان توڑنے کے لیے بھارت سے رابطے میں تھا ۔ یہ اعتراف بعد میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی سپیکر نے ایوان میں کھڑے ہو کر کیا ۔
ریاست نے کس پشتون کو غدار قرار دیا؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ پشتون قوم پرستوں کا ایک طبقہ ریاست پاکستان کے قیام کے خلاف تھا ، پشتون زلمی بنا کر پاکستان کے خلاف ایک مسلح جدوجہد بھی کی گئی لیکن ریاست نے کیا اے این پی پر اپنے راستے بند کیے؟ نہیں کیے۔ ایک دور تھا گزر گیا۔ اے این پی پورے وقار اور احترام کے ساتھ قومی سیاست کا حصہ ہے۔ کون ہے جو ان کے حب الوطنی پر انگلی اٹھا رہا ہے؟ کوئی بھی نہیں ۔ وہ پاکستان ہیں ، اس کے اتنے ہی مالک ہیں جتنا کوئی اور ۔ کیا ریاست نے کبھی کوئی فرق رکھا؟
یہی معاملہ بلوچستان میں ہے۔ کچھ عناصر ہیں جو پہلے دن سے مزاحم رہے۔ ان کے گلے میں حب الوطنی کا ہار کوئی زبردستی کیسے ڈال لے۔ ریاست تو صلح کے لیے اس حد تک گئی کہ بلوچ سرداروں کو ہی نہیں ان کے کتوں تک کو ہیلی کاپٹروں میں بھر کر عزت سے واپس پاکستان لائی۔
اسی طرح مہاجروں کو کس نے غدار قرار دیا؟ الطاف حسین کا معاملہ الگ ہے اور یہ ہمارے سامنے کا مشاہدہ ہے کوئی دور کی کہانی نہیں ہے ۔ لیکن مہاجر آج بھی قومی اجتماعی زندگی کا باوقار کردار ہیں۔ پارلیمان کا حصہ ہیں ۔
غلطیاں سب سے ہوتی ہیں ، ان کی اصلاح بھی ہونی چاہیے ان پر تنقید بھی کی جانی چاہیے لیکن ریاست ولن نہیں ہوتی۔ جو ریاست کو ولن سمجھ کر گالیاں دیتا ہے ، جو ریاست دشمن بیانیہ اختیار کرتا ہے ، وہ غلط کرتا ہے۔
اس سے پھر یہ سوال ہوتا ہے اور ہونا چاہیے کہ اس کے نفرت آمیز بیانیے کا محرک کیا ہے؟
اس سوال کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کسی نے پوری قوم کی حب الوطنی پر سوال اٹھا دیا ہے۔
چیزوں کی ترتیب درست رکھیے ، اپنے نامہ اعمال کی سیاہی کو قوم کی اجتماعیت میں چھپانی کی کوشش نہ کیجیے۔