‘دوستی کو برقرار رکھنا اوّلین ترجیح ہے’، چین اور شمالی کوریا کا باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق

چینی صدر شی جن پنگ اور شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کِم جونگ اُن نے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں ہونے والی غیر معمولی سربراہی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطوں اور تزویراتی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شی جن پنگ نے کم جونگ اُن سے گفتگو میں کہا کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید پیش رفت کے خواہاں ہیں، جبکہ دونوں رہنماؤں نے باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے رابطوں اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

کم جونگ اُن نے کہا کہ چین اور شمالی کوریا کی دوستی کو برقرار رکھنا ان کے ملک کی سب سے اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے شی جن پنگ کو ’’سب سے معزز ریاستی مہمان‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے شمالی کوریا کا انتخاب کرنا ان کے لیے حوصلہ افزا اور اہم حمایت کا مظہر ہے۔

ملاقات کے دوران کم جونگ اُن نے چین کے ’’ایک چین‘‘ مؤقف کی بھی حمایت کا اعادہ کیا، جس کے تحت تائیوان کو چین کا لازمی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تزویراتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

چینی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شی جن پنگ نے تجارت، زراعت، تعمیرات اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے مفادات کے تحفظ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنا چاہیے۔

یہ دورہ گزشتہ 7 برس کے بعد شی جن پنگ کا شمالی کوریا کا پہلا دورہ ہے۔ اس موقع پر کم جونگ اُن نے سرخ قالین، گارڈ آف آنر اور 21 توپوں کی سلامی کے ساتھ چینی صدر کا استقبال کیا۔ دونوں رہنما اپنی اہلیہ اور اعلیٰ حکام کے ہمراہ ایک ثقافتی تقریب میں بھی شریک ہوئے، جس کے بعد شمالی کوریا کے رہنما نے چینی وفد کے اعزاز میں دعوت دی۔

دونوں ممالک کے درمیان دوستی معاہدے کی 65 ویں سالگرہ کے موقع پر شی جن پنگ نے کہا کہ باہمی تعلقات ’’ایک نئے تاریخی مرحلے‘‘ میں داخل ہو چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چین شمالی کوریا پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں پیانگ یانگ نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور بیجنگ چاہتا ہے کہ پیانگ یانگ اس کے دائرۂ اثر میں برقرار رہے۔

الجزیرہ کے مطابق، جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی پیش رفت کا ذکر سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس دورے سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ چین اور شمالی کوریا اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب چین اور امریکہ کے درمیان مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں