سمندر سے مچھلی پکڑنے کا متنازع طریقہ، ہر سال تین ہزار اقسام شکار

ماہرینِ ماحولیات نے سمندر کی تہہ میں جال گھسیٹ کر مچھلی پکڑنے کے طریقے، جسے “باٹم ٹرالنگ” کہا جاتا ہے، پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ سمندری حیات کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہا ہے اور ہر سال ہزاروں اقسام کے جاندار اس کی زد میں آتے ہیں۔

حال ہی میں شائع ہونے والی ایک عالمی تحقیق کے مطابق باٹم ٹرالنگ کے دوران ہر سال تقریباً تین ہزار مختلف اقسام کے سمندری جاندار جالوں میں پھنس جاتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کم از کم ہر سات میں سے ایک قسم کو معدومی کا خطرہ لاحق ہے۔

باٹم ٹرالنگ میں بھاری اور وسیع جال سمندر کی تہہ پر گھسیٹے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں راستے میں آنے والی تقریباً ہر چیز پکڑی، زخمی یا ہلاک ہو جاتی ہے۔ اندازوں کے مطابق اس طریقے سے ہر سال تقریباً ایک کروڑ نوے لاکھ ٹن سمندری حیات ہلاک ہوتی ہے، جبکہ لاکھوں ٹن ایسے جاندار بھی ضائع کر دیے جاتے ہیں جنہیں تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ صرف سمندری حیات ہی نہیں بلکہ ماحول اور مقامی معیشتوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق سمندر کی تہہ کو نقصان پہنچنے سے ماہی گیری کے ذخائر متاثر ہوتے ہیں اور طویل مدت میں مچھلیوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

تاہم بعض ماہرین کا مؤقف ہے کہ اگر باٹم ٹرالنگ کو سخت ضوابط کے تحت انجام دیا جائے تو اس کے اثرات کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف سمندری علاقوں کی ساخت مختلف ہوتی ہے اور بعض جگہوں پر سمندر کی تہہ نسبتاً تیزی سے بحال ہو جاتی ہے۔

مضمون نگار اور سمندری امور کے ماہر پال گرین برگ کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی انسانوں نے بعض نقصان دہ سرگرمیوں کو ترک کیا ہے، جیسے وہیل مچھلیوں کا بڑے پیمانے پر شکار اور بعض خطرناک کیمیکلز کا استعمال۔ ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ باٹم ٹرالنگ کے ماحولیاتی اثرات پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ سمندری خوراک کی مصنوعات پر یہ واضح طور پر درج ہونا چاہیے کہ وہ کس طریقے سے حاصل کی گئی ہیں، تاکہ صارفین باخبر فیصلہ کر سکیں اور ماحول دوست متبادل کو ترجیح دے سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں