افغانستان کے ایک صحافی حجت اللہ ضیا کے مطابق ملک میں غیر منافع بخش تنظیموں (این جی اوز) کا شعبہ مسلسل مسائل کا شکار ہے، جہاں ایک طرف فنڈنگ کم ہو رہی ہے اور دوسری طرف عوامی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں کمزوری برقرار ہے۔
]
انہوں نے الجزیرہ کے لیے ایک رپورٹ میں افغانستان کے صوبے دایکونڈی کے دیہات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہےکہ ایک این جی او نے زرعی پیداوار محفوظ رکھنے کے لیے ایسے ذخیرہ خانے تعمیر کیے جو بغیر بجلی کے چلتے ہیں۔ بظاہر یہ منصوبہ اچھا تھا، لیکن حقیقت میں ان میں اتنی گنجائش ہی نہیں تھی کہ پورے گاؤں کے کسان فائدہ اٹھا سکیں، اور بڑی مقدار میں سیب درختوں کے نیچے ہی سڑتے رہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ایک اور این جی او نے کسانوں میں درآمد شدہ بیج تقسیم کیے اور انہیں تربیت بھی دی، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ فصل انتہائی کم اور ناقص معیار کی ہوئی، جبکہ ہر خاندان کو محنت کے بدلے صرف معمولی آمدن حاصل ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں یہ مسئلہ نیا نہیں ہے۔ 2001 سے 2021 کے دوران غیر ملکی امداد کے بڑے حصے میں بدعنوانی، بدانتظامی اور فضول خرچی کے واقعات سامنے آئے۔ امریکی ادارے سگار کے مطابق اربوں ڈالر کی رقم یا تو خردبرد ہوئی یا غیر مؤثر منصوبوں پر خرچ کر دی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیادہ تر غیر ملکی این جی اوز اپنے منصوبے براہِ راست نافذ نہیں کرتیں بلکہ مقامی شراکت داروں اور ذیلی ٹھیکیداروں کے ذریعے کام کرواتی ہیں، جس سے نگرانی کمزور ہو جاتی ہے اور معیار متاثر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی عملے کی بھاری تنخواہیں بھی وسائل کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں۔
حجت اللہ ضیا کے مطابق حل یہ ہے کہ مقامی ماہرین کو منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں مرکزی کردار دیا جائے، تاکہ وہ مقامی حالات اور ضروریات کو بہتر سمجھتے ہوئے مؤثر منصوبے بنا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ضروری بیوروکریسی اور درمیانی اداروں کو کم کیا جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر غیر منافع بخش شعبہ اپنی کارکردگی بہتر نہیں بناتا تو کم ہوتی ہوئی عالمی فنڈنگ کے باعث اس کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی، اور اس کا براہِ راست نقصان افغانستان جیسے ممالک کے غریب عوام کو ہوگا۔