‘عزیز کے بچھڑنے کا غم کبھی ختم نہیں ہوتا، انسان اس کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے’، ایشا دیول اپنے والدکی یاد پر غمزدہ

بالی وڈ کے معروف اداکار دھرمیندر کے انتقال کو کئی ماہ گزر جانے کے باوجود ان کی یادیں اہلِ خانہ کے دلوں میں آج بھی تازہ ہیں۔ ان کی صاحبزادی ایشا دیول نے ایک حالیہ گفتگو میں کہا ہے کہ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب وہ اپنے والد کو یاد نہ کرتی ہوں۔

ایشا دیول نے بتایا کہ دھرمیندر ان کی زندگی کے ہر مرحلے میں ان کے ساتھ رہے اور انہوں نے ہمیشہ اپنے والد کو ایک مثال اور رہنما کے طور پر دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ والد کا ہاتھ تھامنا، ان کی آواز سننا اور ان کی موجودگی محسوس کرنا آج بھی شدت سے یاد آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والد کو محبت سے “ٹیڈی بیئر” کہہ کر پکارتی تھیں اور اب ان کے کمرے میں موجود کھلونا ریچھ انہیں اپنے والد کی یاد دلاتے ہیں۔ ایشا کے مطابق، کسی عزیز کے بچھڑنے کا غم کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، انسان صرف وقت کے ساتھ اس کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔

ایشا دیول نے اس موقع کا بھی ذکر کیا جب ان کی والدہ ہیما مالنی نے گزشتہ ماہ صدر مملکت سے دھرمیندر کے اعزاز میں پدم وبھوشن وصول کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی والدہ کو یہ اعزاز وصول کرتے دیکھنا ایک نہایت جذباتی لمحہ تھا۔ اس موقع پر فخر اور شکرگزاری کے جذبات تو تھے ہی، ساتھ ہی یہ خواہش بھی شدت سے محسوس ہوئی کہ کاش دھرمیندر خود اس تقریب میں موجود ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ خاندان کا ہمیشہ یہ خیال رہا کہ دھرمیندر کو یہ بڑا اعزاز بہت پہلے مل جانا چاہیے تھا، تاہم وہ خود کبھی اعزازات کو اپنی کامیابی کا پیمانہ نہیں سمجھتے تھے اور عوام کی محبت کو ہی اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے تھے۔

ایشا دیول نے اپنے والدین دھرمیندر اور ہیما مالنی کو منفرد شخصیات قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ ان دونوں عظیم فنکاروں کی بیٹی ہیں۔ ان کے بقول، “ہیما مالنی اور دھرمیندر کی بیٹی کہلانا میری زندگی کی سب سے خوبصورت شناخت ہے اور میں اس پر شکر گزار ہوں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی دو بیٹیوں کی پرورش بھی انہی اقدار اور اصولوں کے مطابق کرنا چاہتی ہیں جو انہیں اپنے والدین سے ورثے میں ملے۔

اپنا تبصرہ لکھیں