اتوار کے روز قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان جھڑپوں میں 7 افراد ہلاک ہوئے، کشمیر پولیس

آزاد جموں و کشمیر کے ضلع راولاکوٹ میں اتوار کے روز پولیس اور حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 7 شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر کی جانب سے جاری کرہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پرتشدد عناصر‘ کی فائرنگ کے نتیجے میں راولا کوٹ پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے چار اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے تین افراد ‘اپنی ہی اندھا دھند فائرنگ’ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

پونچھ کے کمشنر سردار وحید خان نے پیر کے روز ڈان اخبار کو ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکار بھی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ کمشنر سردار وحید خان اور آزاد کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس لیاقت علی ملک کے مطابق اتوار کی رات 30افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ جھڑپوں کے دوران23 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ تصادم ایک تاجر کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں سامنے آیا۔ مذکورہ تاجر جمعہ کی شب قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ مبینہ جھڑپ کے دوران گولی لگنے سے ہلاک ہوا تھا۔ حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ اتوار کے روز مظاہرین نے راولاکوٹ کے مشترکہ فوجی اسپتال پر بھی حملہ کیا۔

ابتدائی طور پر متوفی کے اہلِ خانہ نے ہفتے کے روز تدفین کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے لاش دوبارہ اسپتال منتقل کر دی تاکہ مبینہ طور پر پوسٹ مارٹم کرایا جا سکے، اور تدفین اتوار تک مؤخر کر دی گئی۔

لاش اسپتال کے مردہ خانے میں منتقل کر دی گئی، تاہم پوسٹ مارٹم نہ ہو سکا۔ اس دوران درجنوں افراد مشترکہ فوجی اسپتال کے باہر دھرنا دیے رہے۔

عینی شاہدین کے مطابق جب پولیس کی ایک ٹیم مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہنچی تو مشتعل افراد نے ان کا سامنا کیا۔ اس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے، جبکہ جواباً مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس مرحلے پر کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

دوسری جانب جاں بحق تاجر کے اہلِ خانہ نے اعلان کیا کہ جب تک محکمہ داخلہ کی جانب سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا جاتا، وہ تدفین نہیں کریں گے۔

آزاد کشمیر میں گزشتہ چند روز سے کشیدگی برقرار ہے۔ حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیا ہے، جبکہ کمیٹی اپنے اس مطالبے پر قائم ہے کہ قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں ختم کی جائیں۔ یہ نشستیں 1947 کے بعد پاکستان آنے والے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کو اکثر پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں مظفرآباد میں حکومت سازی پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔

حکومتِ آزاد کشمیر نے 6 جون کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ تنظیم دہشت گردی میں ملوث ہے اور ریاست کے امن و امان کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ اس فیصلے کے بعد حکام نے تنظیم کے خلاف کارروائی شروع کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے اس کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔

پولیس نے اتوار کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی دفتر کو بھی سیل کر دیا۔

ادھر موبائل ڈیٹا سروسز کی بندش کے باعث آزاد کشمیر سے معلومات آنے میں بھی رکاوٹ برقرار ہے۔ حکام نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 جون تک علاقے کا سفر مؤخر کر دیں۔ 9 جون کو متوقع احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں وفاقی نیم فوجی دستے بھی علاقے میں تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ پولیس کی مدد کی جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں