بھارت میں سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی ایک طنزیہ سیاسی تحریک “کاکروچ جنتا پارٹی” نے نوجوانوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر لی ہے، جس کے بعد سیکڑوں حامی دارالحکومت نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے قریب احتجاجی مظاہرے کے لیے جمع ہوئے۔
یہ جماعت بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نام پر طنزیہ انداز میں بنائی گئی ہے۔ تحریک کو اُس وقت زیادہ توجہ ملی جب بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک عدالتی سماعت کے دوران حکومت پر تنقید کرنے والے بعض نوجوانوں کو “کاکروچ” اور “طفیلیے” قرار دیا۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ ان کے ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
تاہم بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم اور سیاسی ابلاغ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے اسی بیان کو بنیاد بنا کر “کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے ایک آن لائن تحریک شروع کی، جس نے چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوانوں کی توجہ حاصل کر لی۔ سوشل میڈیا پر کروڑوں افراد نے اسے فالو کرنا شروع کر دیا۔
ہفتے کے روز ہونے والے احتجاج میں متعدد شرکا نے کاکروچ کے ماسک پہن رکھے تھے۔ مظاہرین نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف نعرے لگائے۔ احتجاج کے دوران “کاکروچ آ رہے ہیں، دھرمیندر پردھان جا رہے ہیں” جیسے نعرے بھی سنائی دیے۔
منتظمین نے شرکا سے کہا تھا کہ وہ قومی پرچم اور کتاب ساتھ لائیں تاکہ تعلیم اور مساوی مواقع کے حق کی علامتی نمائندگی کی جا سکے۔ انہوں نے مظاہرین کو پرامن رہنے اور پولیس کے ساتھ کسی بھی تصادم سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی۔
احتجاج سے قبل نئی دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی اور اہم مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔
دوسری جانب مودی حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ “کاکروچ جنتا پارٹی” محض سوشل میڈیا کا ایک وقتی رجحان ہے اور اس کی آن لائن مقبولیت لازمی طور پر عملی سیاسی قوت میں تبدیل نہیں ہو سکے گی۔