وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے داخلہ اجلاس کے موقع پر روس، تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستان کے وزرائے داخلہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں باہمی تعاون، علاقائی سلامتی اور غیر قانونی امیگریشن سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولٹسیف کے ساتھ ملاقات میں پاکستان اور روس کے درمیان غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، غیر قانونی طور پر مقیم شہریوں کی وطن واپسی اور انسداد منشیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
تاجکستان کے وزیر داخلہ رمضان رحیم زادہ سے ملاقات میں افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے کیمپ اور منشیات کی پیداوار پورے خطے کے لیے سنگین سکیورٹی خطرات کا باعث ہیں۔ اس موقع پر یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان میں اس وقت 25 مختلف دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔
ازبکستان کے وزیر داخلہ عزیز تاشپولاتوف کے ساتھ ملاقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون اور مشترکہ تربیتی پروگراموں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے وزارت داخلہ کی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔
کرغزستان کے وزیر داخلہ نیاز بیکوف اولان اوموکانوچ سے ملاقات میں مشترکہ مفادات کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ محسن نقوی نے کرغزستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور ایس سی او اجلاس کے کامیاب انعقاد پر میزبان ملک کا شکریہ بھی ادا کیا۔
قازقستان کے وزیر داخلہ یرژان سادینوف کے ساتھ ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے اشتراک کار بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے وزارت داخلہ کے درمیان ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔
ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔