ازبکستان کے جوہری بجلی گھر کے پہلے توانائی یونٹ کی تعمیر کا آغاز، ازبک صدر مرزائیوف اور روسی صدر پیوٹن نے افتتاح کیا

اُزبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اُزبکستان میں مربوط جوہری بجلی گھر کے پہلے توانائی یونٹ کی تعمیر کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔

سینٹ پیٹرزبرگ میں افتتاحی تقریب میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

صدر شوکت مرزائیوف نے ولادیمیر پیوٹن اور رافیل گروسی کا اس منصوبے کی ذاتی سطح پر حمایت اور خصوصی توجہ پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اُزبکستان اور روس کے ان ماہرین کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جو ملک کے پہلے جوہری بجلی گھر کی تعمیر میں حصہ لے رہے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرزائیوف نے کہا کہ یہ منصوبہ اُزبکستان کی تکنیکی، صنعتی اور سائنسی ترقی میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا اور ملک میں جوہری توانائی کے شعبے کی بنیاد رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز اور بڑے پیمانے کی توانائی پیداوار کے میدان میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور کامیاب تجربات کو یکجا کرتا ہے۔

اُزبک صدر نے اس موقع پر زور دیا کہ حفاظت اور سلامتی اس منصوبے کی اولین اور غیر مشروط ترجیح ہے۔ ان کے مطابق بجلی گھر کی تعمیر اور اسے آپریشنل بنانے کا عمل جدید بین الاقوامی معیار، جدید انجینیئرنگ اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی مسلسل نگرانی کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔

صدر مرزائیوف نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس بڑے منصوبے کی تکمیل نہ صرف اُزبکستان کی توانائی اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی بلکہ اُزبکستان اور روس کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری اور اتحادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بھی بنے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں