کیا وٹامن ڈی کی کمی خاموش وبا بنتی جا رہی ہے؟

دنیا بھر میں ماہرین صحت وٹامن ڈی کی کمی کو ایک بڑھتا ہوا طبی مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ حیران کن طور پر ایسے ممالک میں بھی، جہاں سال بھر دھوپ وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے، لاکھوں افراد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔ اسی وجہ سے ماہرین اسے ایک “خاموش وبا” قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اکثر لوگوں کو اس کمی کا علم اس وقت ہوتا ہے جب صحت کے مسائل نمایاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

وٹامن ڈی انسانی جسم میں ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ جسم کو کیلشیم اور فاسفورس جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور پٹھوں کی بہتر کارکردگی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کی علامات فوری طور پر واضح نہیں ہوتیں۔ مسلسل تھکاوٹ، جسمانی کمزوری، ہڈیوں اور پٹھوں میں درد، توجہ میں کمی، موڈ میں تبدیلی اور بار بار بیمار ہونا اس کمی کی عام علامات میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ برسوں تک اس مسئلے سے متاثر رہتے ہیں لیکن انہیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔

تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی دل کی بیماریوں، ذیابیطس، ڈپریشن اور بعض مدافعتی بیماریوں کے خطرات میں اضافے سے بھی منسلک ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ان بیماریوں کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، تاہم ماہرین وٹامن ڈی کی مناسب سطح برقرار رکھنے پر زور دیتے ہیں۔

صحت کے ماہرین کے مطابق جدید شہری طرزِ زندگی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ گھروں، دفاتر اور بند کمروں میں زیادہ وقت گزارنے کے باعث بہت سے افراد سورج کی روشنی سے محروم رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ فضائی آلودگی، سن اسکرین کا زیادہ استعمال اور غیر متوازن غذائی عادات بھی وٹامن ڈی کی کمی میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی حاصل کرنے کا بہترین قدرتی ذریعہ سورج کی روشنی ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی، انڈے کی زردی، دودھ اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذائیں بھی اس کمی کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر کسی شخص کو وٹامن ڈی کی کمی کا شبہ ہو تو خون کے ٹیسٹ کے ذریعے اس کی تشخیص کی جا سکتی ہے اور ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹس استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی بظاہر ایک معمولی مسئلہ محسوس ہوتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ صحت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اسی لیے متوازن غذا، مناسب دھوپ اور باقاعدہ طبی معائنہ اس خاموش مسئلے سے بچاؤ کے اہم ذرائع سمجھے جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں