چین نے سرمایہ، ٹیکنالوجی اور کمپنیوں کے بیرونِ ملک انخلا پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

چین نے ملکی سرمایہ، ٹیکنالوجی اور کاروباری اداروں کے بیرونِ ملک منتقل ہونے کو محدود کرنے کے لیے نئے ضوابط متعارف کرا دیے ہیں.

چین کی کابینہ، اسٹیٹ کونسل، کی جانب سے جاری کردہ نئے قواعد کے تحت اب بیرونِ ملک سرمایہ کاری کرنے کی خواہش رکھنے والی چینی کمپنیوں کو قومی سلامتی کی جانچ پڑتال سے گزرنا ہوگا۔ یہ اقدام اپریل میں متعارف کرائے گئے ان ضوابط کے بعد سامنے آیا ہے جن کے تحت حکومت کو غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے سپلائی چین چین سے باہر منتقل کرنے کی کوششوں میں مداخلت کا اختیار دیا گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب چین اور مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ اور یورپی یونین، کے درمیان تجارتی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

نئے ضوابط کے تحت حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ اگر کسی سرمایہ کاری کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے تو اسے روک دیا جائے یا سرمایہ کاروں کو اپنے حصص فروخت کرنے کا حکم دیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق چین پہلے ہی متعدد مواقع پر سخت اقدامات کر چکا ہے۔ حال ہی میں بیجنگ نے چینی ماہرین کی قائم کردہ مصنوعی ذہانت کی کمپنی ’’مانس‘‘ کو خریدنے کے لیے امریکی کمپنی میٹا کے دو ارب ڈالر کے معاہدے کو روک دیا تھا۔

اسی طرح بعض چینی اداروں کو امریکی پابندیوں پر عمل نہ کرنے اور یورپی تحقیقات میں تعاون سے گریز کی ہدایات بھی دی گئی تھیں۔

نئے قوانین کے تحت حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ اگر کسی ملک کی جانب سے چینی سرمایہ کاری پر پابندیاں عائد کی جائیں تو جوابی کارروائی کے طور پر اس ملک کی کمپنیوں یا افراد کو چین میں سرمایہ کاری یا کاروبار سے روکا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں