یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ایک غیرمعمولی کھلا خط لکھتے ہوئے براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ بات چیت کے دوران یوکرین مکمل جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔
زیلنسکی نے اپنے خط میں لکھا کہ یوکرین اس جنگ کا خاتمہ ہمارے اور آپ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے ذریعے کرنا چاہتا ہے۔ میں ملاقات کی تجویز دے رہا ہوں۔ انہوں نے مذاکرات کے لیے ایک واضح تاریخ مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
روس نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیوٹن نے ابھی خط نہیں دیکھا، تاہم زیلنسکی جب چاہیں ماسکو آ سکتے ہیں۔ تاہم یوکرینی صدر نے اپنے خط میں پہلے ہی ماسکو جانے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کسی غیرجانبدار مقام پر ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔
فروری 2022 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان کوئی براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی۔ روس کا مؤقف ہے کہ امن مذاکرات سے قبل یوکرین کو مشرقی ڈونباس کے ان علاقوں سے دستبردار ہونا ہوگا جن پر اب بھی یوکرینی افواج کا کنٹرول ہے۔
یہ خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین نے روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں تیل کے ایک ٹرمینل اور بحری اڈے کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد پوٹن نے اعتراف کیا کہ روس کو اپنے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
اپنے خط کے اختتام پر زیلنسکی نے خبردار کیا کہ اگر روس جنگ کے خاتمے کا فیصلہ نہیں کرتا تو یوکرین اپنی بقا کے لیے لڑائی جاری رکھے گا۔