ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ 28 فروری کو اس وقت ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ میں موجود تھے جب اسرائیلی فضائی حملوں میں خامنہ ای شہید ہوئے۔
لبنانی ٹی وی چینل ’’المیادین‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے بتایا کہ وہ ایک اجلاس میں شریک تھے جب عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق عمارت کا وہ حصہ تباہ ہو گیا جہاں اجلاس جاری تھا، تاہم جس حصے میں وہ موجود تھے وہ حملے سے محفوظ رہا۔
عراقچی نے کہا کہ جب ہم ملبے کے نیچے سے باہر نکل رہے تھے تو میرے ذہن میں مسلسل یہی سوال گردش کر رہا تھا کہ آیا خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا ہے یا نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کے علاوہ ایران کی دفاعی کونسل کے کئی اعلیٰ فوجی رہنما بھی مارے گئے تھے۔