چین نے نیوزی لینڈ کے چار ارکانِ پارلیمنٹ پر ایک سال کے لیے چین کے سفر پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ان ارکان نے تائیوان کا دورہ کیا۔
چینی سفارت خانے کی جانب سے بھیجے گئے پیغام کے مطابق ان چاروں ارکان کو نہ صرف چین بلکہ ہانگ کانگ اور مکاؤ کے دورے سے بھی ایک سال کے لیے روک دیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ اگر وہ معافی مانگ لیں تو یہ پابندی ختم بھی کی جا سکتی ہے۔
ان ارکان نے مئی کے آغاز میں تائیوان کا دورہ کیا تھا، جیسا کہ نیوزی لینڈ کے پارلیمانی ارکان وقتاً فوقتاً کرتے رہے ہیں۔ تاہم چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور کسی بھی غیر ملکی وفد کے دورے کو اپنی خودمختاری کے خلاف سمجھتا ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ جو بھی شخص تائیوان کے معاملے میں چین کی پالیسی کی خلاف ورزی کرے گا اسے اس کی قیمت چکانا ہوگی۔ ان کے مطابق بیجنگ تائیوان سے کسی بھی قسم کے غیر ملکی روابط کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
نیوزی لینڈ حکومت نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بیجنگ سے اس فیصلے پر بات کرے گی تاکہ صورتحال کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق ارکانِ پارلیمنٹ اپنی بیرونِ ملک سرگرمیوں کا فیصلہ خود کرتے ہیں اور ایسے دورے عام طور پر مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے بعض ارکانِ پارلیمنٹ نے چین کے اس اقدام کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری ممالک کے ارکانِ پارلیمنٹ کو اپنی مرضی سے بین الاقوامی روابط قائم کرنے کا حق حاصل ہے، چاہے اس کے سیاسی اثرات کچھ بھی ہوں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ چین نے نیوزی لینڈ کے ارکانِ پارلیمنٹ کو تائیوان کے دورے پر پابندی کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل بھی چین مختلف ممالک کے سیاست دانوں پر ایسے اقدامات کر چکا ہے، تاہم بیجنگ کی جانب سے تائیوان کے معاملے پر دباؤ حالیہ برسوں میں مزید بڑھا ہے۔
نیوزی لینڈ اور چین کے درمیان مجموعی طور پر تعلقات نسبتاً مستحکم رہے ہیں، جبکہ چین نیوزی لینڈ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے۔
آسٹریلیا نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے اور دیگر ممالک کے ارکانِ پارلیمنٹ کے آزادانہ سفر کے حق کی حمایت کرتا ہے اور کسی بھی قسم کے دباؤ کو مناسب نہیں سمجھتا۔